أخبرنا أبو أحمد محمد بن محمد الشَّيباني من أصل كتابه، حدثنا علي بن سعيد بن بَشير الرازي بمصر، حدثنا الحسن بن حماد الحَضْرمي، حدثنا يحيى بن يعلى، حدثنا بسّام الصَّيرفي، عن الحسن بن عمرو الفُقَيمي، عن معاوية بن ثعلبة، عن أبي ذرٍّ، قال: قال رسول الله: "من أطاعَني فقد أطاعَ الله، ومن عصاني فقد عصى الله، ومن أطاعَ عليًّا فقد أطاعني، ومن عصى عليًّا فقد عصاني" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4617 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4617 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی، اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی، اور جس نے علی کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی، اور جس نے علی کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني محمد بن أحمد بن تَميم القَنْطري، حدثنا أبو قِلابة الرَّقَاشي، حدثنا أبو عاصم، عن عبد الله بن المؤمَّل، حدثني أبو بكر بن عُبيد الله بن أبي مُليكة، عن أبيه، قال: جاء رجلٌ من أهل الشام فسَبّ عليًّا عند ابن عبّاس فحَصَبَه ابن عبّاس فقال: يا عدوَّ الله، آذيتَ رسولَ الله ﷺ، ﴿إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا﴾ [الأحزاب: 57]، لو كان رسولُ الله ﷺ (1) لآذيتَه (2).
هذا حديث صحيح الإسناد. ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4618 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد. ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4618 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ابوملیکہ سے روایت ہے کہ اہل شام میں سے ایک شخص آیا اور اس نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے کنکریاں ماریں اور فرمایا: ”اے اللہ کے دشمن! تو نے رسول اللہ ﷺ کو اذیت دی ہے، (فرمانِ باری تعالیٰ ہے:) ﴿إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا﴾ ”بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دیتے ہیں، اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی ہے اور ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے“ [سورة الأحزاب: 57]، اگر رسول اللہ ﷺ (زندہ) ہوتے تو تم انہیں ضرور ایذا پہنچاتے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو زُرعة الدمشقي، حدثنا محمد بن خالد الوَهْبي (3)، حدثنا محمد بن إسحاق. وأخبرنا أحمد بن جعفر البزّار، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد، حدثنا أبي، عن محمد بن إسحاق، عن أبان بن صالح، عن الفضل بن مَعقِل بن يَسَار (4)، عن عبد الله بن نِيَار الأسلمي، عن عمرو بن شاسٍ الأسلميّ - وكان من أصحاب الحديبية - قال: خرجْنا مع عليٍّ إلى اليمن، فجَفَاني في سفَره ذلك، حتى وجدتُ في نفسي، فلما قدمتُ أظهرتُ شِكايتَه في المسجد، حتى بلغَ ذلك رسولَ الله ﷺ، قال: فدخلتُ المسجدَ ذاتَ غَداةٍ ورسولُ الله ﷺ في ناسٍ من أصحابه، فلما رآني أبَدَّني عينَيه - قال: يقول: حَدَّد إليَّ النظرَ - حتى إذا جلستُ قال: "يا عمرُو، أمَا والله لقد آذَيتَني"، فقلت: أعوذُ بالله أن أُؤذيَك يا رسولَ الله، قال: "بلي، من آذى عليًّا فقد آذاني" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4619 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4619 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمرو بن شاس اسلمی رضی اللہ عنہ (جو اصحابِ حدیبیہ میں سے تھے) سے روایت ہے کہ ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن روانہ ہوئے، تو انہوں نے اس سفر کے دوران مجھ سے کچھ بے رخی برتی یہاں تک کہ میں نے اپنے دل میں (کچھ تنگی) محسوس کی، جب میں واپس آیا تو مسجد میں ان کے بارے میں شکایت کرنے لگا یہاں تک کہ یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچ گئی۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک صبح میں مسجد میں داخل ہوا جبکہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے درمیان تشریف فرما تھے، جب آپ ﷺ نے مجھے دیکھا تو نظریں جما کر مجھے گھورنے لگے، جب میں بیٹھ گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمرو! اللہ کی قسم تم نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے۔“ میں نے عرض کیا: میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ آپ کو ایذا پہنچاؤں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں نہیں، جس نے علی کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔