المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
قال النبي من سب عليا فقد سبني باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے علی کو گالی دی اس نے مجھے گالی دی
حدَّثناهُ أبو جعفر أحمد بن عُبيد الحافظ بهَمَذان، حدثنا أحمد بن موسى بن إسحاق التميمي، حدثنا جَندَل بن والِق، حدثنا بُكير بن عثمان، قال: سمعت أبا إسحاق يقول: سمعت أبا عبد الله الجَدَلي يقول: حَجَجتُ وأنا غلامٌ فمررتُ بالمدينة، وإذا الناس عُنُقٌ واحد، فاتّبعتُهم فدخَلُوا على أم سلمة زوج النبي ﷺ، فسمعتُها تقول: يا شَبَث بنَ رِبْعيّ، فأجابها رجلٌ جِلْفٌ جافٍ: لبَّيكِ يا أُمّتاه، قالت: يُسَبُّ رسولُ الله ﷺ في ناديكم؟! قال: وأنّى ذلك؟! قالت: فعليُّ بن أبي طالب؟ قال: إنا لنَقولُ أشياءَ نريدُ عَرَضَ الدنيا، قالت: فإني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "من سَبَّ عليًا فقد سَبَّني، ومن سَبَّني فقد سبَّ الله تعالى" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4616 - سكت عنه الذهبي في التلخيصابو عبد اللہ جدلی سے روایت ہے کہ میں نے لڑکپن میں حج کیا اور مدینہ سے میرا گزر ہوا تو میں نے دیکھا کہ لوگ ایک ہی رخ پر جوق در جوق جا رہے ہیں، میں بھی ان کے پیچھے چل پڑا، وہ لوگ ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے، میں نے انہیں فرماتے سنا: ”اے شبث بن ربعی! (تو اس اجڈ اور بد تمیز شخص نے جواب دیا: اے ماں! میں حاضر ہوں) انہوں نے پوچھا: «يُسَبُّ رَسُولُ الله ﷺ فِي نَادِيكُمْ؟» اس نے کہا: ”یہ کیسے ممکن ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”کیا (تمہاری محفلوں میں) علی بن ابی طالب کو برا بھلا نہیں کہا جاتا؟“ اس نے کہا: ”ہم دنیاوی مفادات کی خاطر (ان کے خلاف) ایسی باتیں کہہ دیتے ہیں۔“ انہوں نے فرمایا: ”بلاشبہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے علی کو گالی دی اس نے مجھے گالی دی، اور جس نے مجھے گالی دی اس نے اللہ تعالیٰ کو گالی دی۔““
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند ضعیف ہے۔ بکیر بن عثمان سے ایک یا دو راویوں نے روایت کی ہے۔ محمد بن بشر العبدی نے کہا: وہ اپنی قوم میں پسندیدہ نہیں تھا۔ ہم کہتے ہیں: کسی سے اس کی توثیق مروی نہیں۔
وقد رواه علي بن مُسهر عند علي بن محمد الحِمْيري في "جزئه" (26)، ومن طريقه ابن عساكر 42/ 533 عن أبي إسحاق السبيعي، غير أنه لم يذكر في روايته أبا عبد الله الجَدَلي، وجعل القصة لأبي إسحاق نفسه أنه هو الذي حجَّ وهو غلام، وسمع أم سلمة تقول ما تقول لشَبَث بن ربعي، إلّا أنَّ علي بن مسهر لم يسمع من أبي إسحاق، فروايته عنه منقطعة فلا تصح، ولا يصح لأبي إسحاق لقاء بأم سلمة.
فنی نکتہ / علّت: علی بن مسہر نے اسے علی بن محمد الحمیری (26) اور ابن عساکر (42/ 533) کے ہاں ابو اسحاق السبیعی سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے ابو عبد اللہ الجدلی کا ذکر نہیں کیا، اور قصہ خود ابو اسحاق کا بنا دیا کہ انہوں نے بچپن میں حج کیا اور ام سلمہ کو سنا۔ لیکن علی بن مسہر کا ابو اسحاق سے سماع نہیں، سو روایت منقطع ہے۔ اور ابو اسحاق کی ام سلمہ سے ملاقات ثابت نہیں۔
قوله: "إذا الناسُ عُنُقٌ واحد" أي: يسيرون جميعًا.
نوٹ / توضیح: قول: "إذا الناسُ عُنُقٌ واحد" یعنی: وہ سب اکٹھے چل رہے تھے۔