کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے مناقب جو ان دونوں (شیخین) نے روایت نہیں کیے — سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل
سمعت القاضيَ أبا الحسن علي بن الحسن الجَرَّاحي وأبا الحسين محمد بن المُظفَّر الحافظ، يقولان: سمعنا أبا حامد محمد بن هارون الحَضْرمي يقول: سمعت محمد بن منصور الطُّوسِي يقول: سمعت أحمدَ بن حنبل يقول: ما جاء لأحدٍ من أصحاب رسول الله ﷺ من الفضائل ما جاء لِعليّ بن أبي طالب ﵁ (1).
حافظ طلحہ بابر
احمد بن حنبل نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے کسی کے لیے اتنے فضائل اور مناقب مروی نہیں ہوئے جتنے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے حق میں بیان ہوئے ہیں۔“
سمعت أبا العباس محمد بن يعقوب يقول: سمعتُ العباس بن محمد الدُّوري يقول: سمعت يحيى بن مَعِين يقول: اسمُ أبي طالب عبدُ مناف (2). قال الحاكم: وهكذا ذكره زيادٌ عن (3) محمد بن إسحاق، وقد تواترت الأخبار بأنَّ أبا طالب كنيته اسمه، والله أعلم (4).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4572 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4572 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
یحییٰ بن معین نے کہا: ”ابوطالب کا نام عبد مناف تھا۔“
امام حاکم نے کہا: اسی طرح اسے زیاد نے محمد بن اسحاق سے نقل کیا ہے، جبکہ ایسی خبریں تواتر کے ساتھ منقول ہیں کہ ابوطالب کی کنیت ہی درحقیقت ان کا نام ہے، اور اللہ ہی بہتر جاننے والا ہے۔
امام حاکم نے کہا: اسی طرح اسے زیاد نے محمد بن اسحاق سے نقل کیا ہے، جبکہ ایسی خبریں تواتر کے ساتھ منقول ہیں کہ ابوطالب کی کنیت ہی درحقیقت ان کا نام ہے، اور اللہ ہی بہتر جاننے والا ہے۔
سمعت أبا العباس يقول: سمعت العباس بن محمد يقول: سمعت يحيى بن مَعِين يقول: أمُّ علي بن أبي طالب فاطمةُ بنتُ أسَد بن هاشم (5).
حافظ طلحہ بابر
یحییٰ بن معین نے کہا: ”سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی والدہ ماجدہ فاطمہ بنت اسد بن ہاشم ہیں۔“
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حَدَّثَنَا مصعب بن عبد الله الزُّبيري، قال: كانت فاطمةُ بنت أسَد بن هاشم أولَ هاشمية وَلَدَت من هاشمي، وكانت بمحلٍّ عظيمٍ من الإيمان في عهدِ رسول الله ﷺ، وتُوفِّيت في حياة رسول الله ﷺ، وصلّى عليها، وكان اسمَ عليٍّ أسدٌ، ولذلك يقول: أنا الذي سَمَّتْني أمي حَيدَرهْ (1)
حافظ طلحہ بابر
مصعب بن عبد اللہ الزبیری سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت اسد بن ہاشم پہلی ہاشمی خاتون تھیں جنہوں نے ہاشمی مرد (ابوطالب) کے بطن سے اولاد کو جنم دیا، وہ رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں ایمان کے بلند ترین مقام پر فائز تھیں، ان کی وفات رسول اللہ ﷺ کی ظاہری حیات میں ہوئی اور آپ ﷺ نے خود ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا نام (شروع میں) اسد رکھا گیا تھا، اسی مناسبت سے وہ (غزوہ خیبر کے موقع پر) یہ رجز پڑھا کرتے تھے: «أَنَا الَّذِي سَمَّتْنِي أُمِّي حَيْدَرَهْ» ”میں وہ ہوں جس کا نام میری ماں نے حیدر (شیر) رکھا۔“