حدیث نمبر: 4624
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حَدَّثَنَا مصعب بن عبد الله الزُّبيري، قال: كانت فاطمةُ بنت أسَد بن هاشم أولَ هاشمية وَلَدَت من هاشمي، وكانت بمحلٍّ عظيمٍ من الإيمان في عهدِ رسول الله ﷺ، وتُوفِّيت في حياة رسول الله ﷺ، وصلّى عليها، وكان اسمَ عليٍّ أسدٌ، ولذلك يقول: أنا الذي سَمَّتْني أمي حَيدَرهْ (1)
حافظ طلحہ بابر

مصعب بن عبد اللہ الزبیری سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت اسد بن ہاشم پہلی ہاشمی خاتون تھیں جنہوں نے ہاشمی مرد (ابوطالب) کے بطن سے اولاد کو جنم دیا، وہ رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں ایمان کے بلند ترین مقام پر فائز تھیں، ان کی وفات رسول اللہ ﷺ کی ظاہری حیات میں ہوئی اور آپ ﷺ نے خود ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا نام (شروع میں) اسد رکھا گیا تھا، اسی مناسبت سے وہ (غزوہ خیبر کے موقع پر) یہ رجز پڑھا کرتے تھے: «أَنَا الَّذِي سَمَّتْنِي أُمِّي حَيْدَرَهْ» ”میں وہ ہوں جس کا نام میری ماں نے حیدر (شیر) رکھا۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4624
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 4624] [ترقيم الشركة 4600]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) وأخرجه ابن أبي خيثمة في السفر الثاني من "تاريخه" (1276)، ومن طريقه أبو الحسن بن المغازلي في "مناقب علي" (2) عن مصعب الزبيري. دون ذكر وفاتها والصلاة عليها، ودون ذكر تسمية علي أسدًا.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی خیثمہ نے اپنی "تاریخ" کے دوسرے سفر (1276) میں اور ان کے طریق سے ابو الحسن بن المغازلی نے "مناقب علی" (2) میں مصعب زبیری سے روایت کیا ہے، لیکن اس میں ان (فاطمہ بنت اسد) کی وفات اور نماز جنازہ کا ذکر نہیں، اور نہ ہی علی کا نام "اسد" رکھنے کا ذکر ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4624 سے ماخوذ ہے۔