حدیث نمبر: 4621
سمعت القاضيَ أبا الحسن علي بن الحسن الجَرَّاحي وأبا الحسين محمد بن المُظفَّر الحافظ، يقولان: سمعنا أبا حامد محمد بن هارون الحَضْرمي يقول: سمعت محمد بن منصور الطُّوسِي يقول: سمعت أحمدَ بن حنبل يقول: ما جاء لأحدٍ من أصحاب رسول الله ﷺ من الفضائل ما جاء لِعليّ بن أبي طالب ﵁ (1).
حافظ طلحہ بابر

احمد بن حنبل نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے کسی کے لیے اتنے فضائل اور مناقب مروی نہیں ہوئے جتنے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے حق میں بیان ہوئے ہیں۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4621
درجۂ حدیث محدثین: خبر صحيح
تخریج حدیث «خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أحمد بن عبد الجبار» [ترقيم الرساله 4621] [ترقيم الشركة 4598]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) صحيح.
درجۂ حدیث: (1) یہ روایت صحیح ہے۔
وأخرجه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 42/ 418 وأبو إسحاق الثعلبي في "تفسيره" 4/ 81، وابن الجزري في "مناقب الأسد الغالب علي بن أبي طالب" (1) من طريق أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (42/ 418)، ابو اسحاق الثعلبی نے اپنی "تفسیر" (4/ 81) اور ابن الجزری نے "مناقب الاسد الغالب" (1) میں ابو عبد اللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
قال البيهقي فيما نقله عنه ابن عساكر: هذا لأنَّ أمير المؤمنين عليًّا عاش بعد سائر الخلفاء حتَّى ظهر له مخالفون وخرج عليه خارجون، فاحتاج من بقي من الصحابة إلى رواية ما سمعوه في فضائله ومراتبه ومناقبه ومحاسنه، ليَردُّوا بذلك عنه ما لا يليق به من القول والفعل، وهو أهل كل فضيلة ومنقَبِة، ومستحقٌّ لكل سابقة ومرتبة، ولم يكن أحدٌ في وقته أحقَّ بالخلافة منه، وكان في قُعوده عن الطلب قبله مُحقًّا، وفي طلبه في وقته مستحقًّا.
اہم نکتہ: امام بیہقی نے (جیسا کہ ابن عساکر نے ان سے نقل کیا) فرمایا: اس کی وجہ یہ ہے کہ امیر المومنین علی دیگر خلفاء کے بعد بھی زندہ رہے یہاں تک کہ ان کے مخالفین ظاہر ہوئے اور خوارج ان کے خلاف نکلے، تو باقی ماندہ صحابہ کو ضرورت پیش آئی کہ وہ ان کے فضائل، مراتب، مناقب اور محاسن کے بارے میں جو کچھ سن رکھا تھا اسے روایت کریں، تاکہ وہ ان باتوں کا رد کر سکیں جو ان کی شان کے لائق نہیں ہیں (خواہ قول ہو یا فعل)۔ حالانکہ وہ ہر فضیلت و منقبت کے اہل اور ہر سبقت و مرتبے کے مستحق تھے۔ اور ان کے دور میں کوئی ان سے زیادہ خلافت کا حقدار نہیں تھا۔ وہ اپنے سے پہلے (خلفاء کے دور میں) خلافت طلب نہ کرنے میں بھی حق پر تھے، اور اپنے وقت میں طلب کرنے میں بھی حق بجانب تھے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4621 سے ماخوذ ہے۔