المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
مَنَاقِبُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِمَّا لَمْ يُخْرِجَاهُ - فَضَائِلُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے مناقب جو ان دونوں (شیخین) نے روایت نہیں کیے — سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل
حدیث نمبر: 4622
سمعت أبا العباس محمد بن يعقوب يقول: سمعتُ العباس بن محمد الدُّوري يقول: سمعت يحيى بن مَعِين يقول: اسمُ أبي طالب عبدُ مناف (2). قال الحاكم: وهكذا ذكره زيادٌ عن (3) محمد بن إسحاق، وقد تواترت الأخبار بأنَّ أبا طالب كنيته اسمه، والله أعلم (4).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4572 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
یحییٰ بن معین نے کہا: ”ابوطالب کا نام عبد مناف تھا۔“
امام حاکم نے کہا: اسی طرح اسے زیاد نے محمد بن اسحاق سے نقل کیا ہے، جبکہ ایسی خبریں تواتر کے ساتھ منقول ہیں کہ ابوطالب کی کنیت ہی درحقیقت ان کا نام ہے، اور اللہ ہی بہتر جاننے والا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) وهو في "تاريخ ابن مَعِين" رواية العباس الدوري (83).
نوٹ / توضیح: (2) یہ روایت "تاریخ ابن معین" میں عباس الدوری کی روایت (83) میں موجود ہے۔
(3) تحرَّفت في (ص) و (ب) إلى: بن وفي (ز) و (م): زياد محمد بن إسحاق، بحذف حرف "عن" بين زياد وبين محمد! وزياد: هو ابن عبد الله البكّائي، أحد رواة السيرة عن ابن إسحاق.
نوٹ / توضیح: (3) یہ نام نسخہ (ص) اور (ب) میں تحریف ہو کر "بن" بن گیا، اور نسخہ (ز) اور (م) میں "زیاد محمد بن اسحاق" (زیاد اور محمد کے درمیان لفظ "عن" کے حذف کے ساتھ) لکھا گیا۔ زیاد سے مراد ابن عبد اللہ البکائی ہیں، جو ابن اسحاق سے سیرت کے راویوں میں سے ایک ہیں۔
(4) وعبارة الحاكم في "علوم الحديث" ص 184: وهكذا ذكره أحمد بن حنبل عن الشافعي، وأكثر المتقدمين على أن اسمه كنيته، فالله أعلم.
نوٹ / توضیح: (4) حاکم کی "علوم الحدیث" (صفحہ 184) میں عبارت یوں ہے: "اور اسی طرح احمد بن حنبل نے شافعی سے ذکر کیا ہے، اور اکثر متقدمین کا کہنا ہے کہ ان کا نام ہی ان کی کنیت ہے، واللہ اعلم۔"
نوٹ / توضیح: (2) یہ روایت "تاریخ ابن معین" میں عباس الدوری کی روایت (83) میں موجود ہے۔
(3) تحرَّفت في (ص) و (ب) إلى: بن وفي (ز) و (م): زياد محمد بن إسحاق، بحذف حرف "عن" بين زياد وبين محمد! وزياد: هو ابن عبد الله البكّائي، أحد رواة السيرة عن ابن إسحاق.
نوٹ / توضیح: (3) یہ نام نسخہ (ص) اور (ب) میں تحریف ہو کر "بن" بن گیا، اور نسخہ (ز) اور (م) میں "زیاد محمد بن اسحاق" (زیاد اور محمد کے درمیان لفظ "عن" کے حذف کے ساتھ) لکھا گیا۔ زیاد سے مراد ابن عبد اللہ البکائی ہیں، جو ابن اسحاق سے سیرت کے راویوں میں سے ایک ہیں۔
(4) وعبارة الحاكم في "علوم الحديث" ص 184: وهكذا ذكره أحمد بن حنبل عن الشافعي، وأكثر المتقدمين على أن اسمه كنيته، فالله أعلم.
نوٹ / توضیح: (4) حاکم کی "علوم الحدیث" (صفحہ 184) میں عبارت یوں ہے: "اور اسی طرح احمد بن حنبل نے شافعی سے ذکر کیا ہے، اور اکثر متقدمین کا کہنا ہے کہ ان کا نام ہی ان کی کنیت ہے، واللہ اعلم۔"
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4622 سے ماخوذ ہے۔