کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا دہقان کے سامنے سجدہ کیے جانے کا واقعہ، اور ریشم و دیباج پہننے کی ممانعت، نیز سونے اور چاندی کے برتنوں میں پینے کی ممانعت
وأخبرنا أبو بكر، أخبرنا أبو المثنّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا أبو الأحوَص، حدثنا مسلمٌ الأعور، عن أبي وائل، قال: غزوتُ مع عمرَ الشامَ، فنزلنا منزلًا، فجاء دِهقانُ يَستدِلُّ على أمير المؤمنين، حتى أتاهُ، فلما رأى الدِّهقانُ عمرَ سَجَدَ، فقال عمر: ما هذا السجود؟! فقال: هكذا نفعل بالمُلوك، فقال عمر: اسجُدْ لربك الذي خلقك، فقال: يا أمير المؤمنين، إني قد صنعتُ لك طعامًا فأْتِني، قال: فقال عمر: هل في بيتك من تَصاوير العَجَم؟ قال: نعم، قال: لا حاجةَ لي في بيتك، ولكن انطلِقْ فابعَثْ لنا بلَونٍ من الطعام ولا تَزِدْنا عليه، قال: فانطلق فبعثَ إليه بطعامٍ، فأكل منه، ثم قال عمر الغلامه: هل في إداوَتِك شيءٌ من ذلك النَّبيذ؟ قال: نعم، فَآتَاهُ فصبَّه في إناء، ثم شَمَّه فوجده مُنكرَ الريحِ، فصَبَّ عليه ماءً، ثم شَمَّه فوجده مُنكرَ الريح، فصَبَّ عليه الماءَ ثلاث مرات، ثم شَرِبه، ثم قال: إذا رابَكُم مِن شرابِكُم شيءٌ فافعَلُوا به هكذا، ثم قال: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "لا تَلْبَسُوا الدِّيباجَ والحَريرَ، ولا تَشربُوا في آنيةِ الفضة والذهب، فإنها لهم في الدُّنيا، ولنا في الآخِرة" (1) صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4482 - مسلم الأعور تركوه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4482 - مسلم الأعور تركوه
حافظ طلحہ بابر
ابو وائل سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ شام میں ایک غزوے میں شرکت کی، ہم ایک مقام پر رکے تو وہاں کا ایک بڑا زمیندار (دہقان) امیر المؤمنین کا پتہ پوچھتا ہوا آیا، جب اس نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو (تعظیماً) سجدہ کرنے لگا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سجدہ کیسا ہے؟“ اس نے عرض کیا: ہم اپنے بادشاہوں کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اپنے اس رب کو سجدہ کرو جس نے تمہیں پیدا کیا ہے“، اس نے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! میں نے آپ کے لیے کھانا تیار کیا ہے، آپ میرے ہاں تشریف لائیں، راوی کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا: ”کیا تمہارے گھر میں عجمیوں کی (بنائی ہوئی) تصویریں ہیں؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”مجھے تمہارے گھر جانے کی کوئی حاجت نہیں، البتہ تم جاؤ اور ہمارے لیے کھانے کی ایک قسم بھیج دو اور اس سے زیادہ نہ کرنا“، چنانچہ وہ گیا اور کھانا بھیج دیا، آپ نے اس میں سے تناول فرمایا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام سے پوچھا: ”کیا تمہارے مشکیزے میں اس نبیذ میں سے کچھ ہے؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں، وہ اسے لے کر آیا اور ایک برتن میں انڈیلا، آپ نے اسے سونگھا تو اس کی بو ناگوار محسوس ہوئی، آپ نے اس میں پانی ڈالا، پھر اسے سونگھا تو بو پھر بھی ناگوار تھی، آپ نے (مجموعی طور پر) تین بار اس میں پانی شامل کیا، پھر اسے نوش فرمایا اور ارشاد فرمایا: ”جب تمہیں اپنے پینے کی کسی چیز میں (تیزی کی وجہ سے) شک گزرے تو اس کے ساتھ ایسا ہی کیا کرو“، پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”دیباج اور ریشم نہ پہنو، اور نہ ہی سونے اور چاندی کے برتنوں میں پیو، کیونکہ یہ (کافروں) کے لیے دنیا میں ہیں اور ہمارے لیے آخرت میں ہوں گی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا شَبَابة بن سَوّار، حدثنا المُبارك بن فَضَالة، عن عُبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، عن ابن عبّاس (1)، أنَّ النبي ﷺ قال: "اللهم أيِّدِ الدِّين بعُمرَ بن الخطّاب" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4483 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4483 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ أَيِّدِ الدِّينَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ» ”اے اللہ! عمر بن خطاب کے ذریعے دین کی تائید فرما۔“
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا سعيد بن سليمان، حدثنا المُبارك بن فَضَالة، عن عُبيد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر، عن ابن عبّاس، عن النبيِّ ﷺ أنه قال: "اللهم أعِزَّ الإسلامَ بعُمرَ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد صحَّ شاهده عن عائشة بنت الصِّدِّيق ﵄:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4484 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد صحَّ شاهده عن عائشة بنت الصِّدِّيق ﵄:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4484 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ» ”اے اللہ! عمر کے ذریعے اسلام کو عزت و غلبہ عطا فرما۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی اس کی شاہد حدیث بھی صحیح ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی اس کی شاہد حدیث بھی صحیح ہے۔
حدَّثَناه عبد الله بن جعفر الفارسي، حدثنا يعقوب بن سفيان، حدثنا عبد العزيز بن عبد الله الأُوَيسي، حدثنا الماجِشُون بن أبي سلمة، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة، أنَّ النبي ﷺ اقال: "اللهم أعِزَّ الإسلامَ بعُمرَ بن الخَطَّاب خاصّةً" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ومَدارُ هذا الحديث على حديث الشَّعْبي عن مسروق عن عبد الله: "اللهم أعِزَّ الإسلامَ بأحبِّ الرجُلَين إليك"، وقد تفرَّد به مجالدُ بن سعيد عن الشَّعبْي، ولم أذكُرْ لمجالدٍ فيما قبلُ روايةً (2):
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4485 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ومَدارُ هذا الحديث على حديث الشَّعْبي عن مسروق عن عبد الله: "اللهم أعِزَّ الإسلامَ بأحبِّ الرجُلَين إليك"، وقد تفرَّد به مجالدُ بن سعيد عن الشَّعبْي، ولم أذكُرْ لمجالدٍ فيما قبلُ روايةً (2):
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4485 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ خَاصَّةً» ”اے اللہ! خصوصیت کے ساتھ عمر بن خطاب کے ذریعے اسلام کو عزت و غلبہ عطا فرما۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اس حدیث کا مدار شعبی کی مسروق کے واسطے سے ابن مسعود سے روایت پر ہے کہ «اللَّهُمَّ أَعِزَّ الإِسْلَامَ بِأَحَبِّ الرَّجُلَيْنِ إِلَيْكَ» ”اے اللہ! ان دو شخصوں میں سے جو تجھے زیادہ محبوب ہو اس کے ذریعے اسلام کو غلبہ عطا فرما“، اور اس کو شعبی سے روایت کرنے میں مجالد بن سعید متفرد ہے اور میں نے پہلے مجالد کی کوئی روایت ذکر نہیں کی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اس حدیث کا مدار شعبی کی مسروق کے واسطے سے ابن مسعود سے روایت پر ہے کہ «اللَّهُمَّ أَعِزَّ الإِسْلَامَ بِأَحَبِّ الرَّجُلَيْنِ إِلَيْكَ» ”اے اللہ! ان دو شخصوں میں سے جو تجھے زیادہ محبوب ہو اس کے ذریعے اسلام کو غلبہ عطا فرما“، اور اس کو شعبی سے روایت کرنے میں مجالد بن سعید متفرد ہے اور میں نے پہلے مجالد کی کوئی روایت ذکر نہیں کی۔
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عُبيد بن حاتم العجل الحافظ، حدثنا عمر بن محمد الأسَدي، حدثنا أبي، حدثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة، عن مُجالد، عن الشَّعْبي، عن مسروق، عن ابن مسعود قال: قال رسول الله ﷺ: "اللهم أعِزَّ الإسلام بعُمرَ بن الخطّاب أو بأبي جَهْل بن هِشام"، فجعل الله دعوةَ رسوله ﷺ لِعُمر، فبَنَى عليه مُلَك الإسلامِ، وهَدَمَ به الأوثانَ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4486 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4486 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَوْ بِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ» ”اے اللہ! عمر بن خطاب یا ابو جہل بن ہشام کے ذریعے اسلام کو غلبہ عطا فرما“، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی دعا عمر کے حق میں قبول فرما لی، چنانچہ اللہ نے ان کے ذریعے اسلام کی سلطنت کی بنیاد رکھی اور ان کے ذریعے بتوں کو پامال کر دیا۔
حدثني أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا عمر بن حفص السَّدُوسي، حدثنا عاصم بن علي، حدثنا المَسعُودي عن القاسم بن عبد الرحمن، عن أبيه، عن عبد الله، قال: والله ما استطعنا أن نصلِّيَ عند الكعبة ظاهِرينَ حتى أسلمَ عمرُ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4487 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4487 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم کعبہ کے پاس اعلانیہ نماز پڑھنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ اسلام لے آئے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو نُعيم وأبو حُذيفة قالا: حدثنا سُفيان، عن منصور، عن رِبعيّ بن حِراش، عن حذيفة قال: كان الإسلامُ في زمان عمر كالرجل المُقبِل لا يزدادُ إلَّا قُربًا، فلما قُتِلَ عمرُ كان كالرجل المُدبِر لا يزدادُ إِلَّا بُعدًا (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4488 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4488 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اسلام اس شخص کی مانند تھا جو سامنے سے آ رہا ہو اور وہ قریب سے قریب تر ہوتا جا رہا تھا، لیکن جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے تو اسلام اس شخص کی طرح ہو گیا جو پیٹھ پھیر کر جا رہا ہو اور وہ دور سے دور تر ہوتا جا رہا ہو۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔