المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى سَجْدَةِ الدِّهْقَانِ وَالنَّهْيُ عَنْ لُبْسِ الدِّيبَاجِ وَالْحَرِيرِ وَالشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ باب: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا دہقان کے سامنے سجدہ کیے جانے کا واقعہ، اور ریشم و دیباج پہننے کی ممانعت، نیز سونے اور چاندی کے برتنوں میں پینے کی ممانعت
حدَّثَناه عبد الله بن جعفر الفارسي، حدثنا يعقوب بن سفيان، حدثنا عبد العزيز بن عبد الله الأُوَيسي، حدثنا الماجِشُون بن أبي سلمة، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة، أنَّ النبي ﷺ اقال: "اللهم أعِزَّ الإسلامَ بعُمرَ بن الخَطَّاب خاصّةً" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ومَدارُ هذا الحديث على حديث الشَّعْبي عن مسروق عن عبد الله: "اللهم أعِزَّ الإسلامَ بأحبِّ الرجُلَين إليك"، وقد تفرَّد به مجالدُ بن سعيد عن الشَّعبْي، ولم أذكُرْ لمجالدٍ فيما قبلُ روايةً (2):
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4485 - على شرط البخاري ومسلمسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ خَاصَّةً» ”اے اللہ! خصوصیت کے ساتھ عمر بن خطاب کے ذریعے اسلام کو عزت و غلبہ عطا فرما۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اس حدیث کا مدار شعبی کی مسروق کے واسطے سے ابن مسعود سے روایت پر ہے کہ «اللَّهُمَّ أَعِزَّ الإِسْلَامَ بِأَحَبِّ الرَّجُلَيْنِ إِلَيْكَ» ”اے اللہ! ان دو شخصوں میں سے جو تجھے زیادہ محبوب ہو اس کے ذریعے اسلام کو غلبہ عطا فرما“، اور اس کو شعبی سے روایت کرنے میں مجالد بن سعید متفرد ہے اور میں نے پہلے مجالد کی کوئی روایت ذکر نہیں کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے جیسا کہ حافظ ابن حجر نے "الفتح" (11/ 90) میں فرمایا۔
تعینِ راوی: "ماجشون" سے مراد عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابی سلمہ ہیں، اور ماجشون ان کا لقب ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (105)، وابن حبان (6882) من طريق عبد الملك بن عبد العزيز الماجشون، عن مسلم بن خالد الزنجي، عن هشام بن عُرْوة به ومسلم الزنجي ضعيف يُعتبر به في المتابعات والشواهد، فإسناده حسن لمتابعة عبد العزيز الماجشون له.
درجۂ حدیث: اسے ابن ماجہ (105) اور ابن حبان (6882) نے عبدالملک بن عبدالعزیز الماجشون -> مسلم بن خالد الزنجی -> ہشام بن عروہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔ مسلم الزنجی "ضعیف" ہے مگر متابعات اور شواہد میں معتبر ہے، چنانچہ عبدالعزیز الماجشون کی متابعت کی وجہ سے یہ سند "حسن" ہے۔
(2) قد ذكر الحاكم لمجالدٍ روايةً عن الشَّعْبي فيما سلف برقم (4171) لكن من قوله، فلعله عنى هنا روايةً مسندةً.
فنی نکتہ: حاکم نے مجالد کی شعبی سے روایت کا ذکر پہلے نمبر (4171) پر کیا تھا لیکن وہ ان کا اپنا قول تھا، شاید یہاں ان کی مراد "مسند" روایت ہے۔