المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
مَهْمَا تَطْلُبُوا الْعِزَّةَ بِغَيْرِ الْإِسْلَامِ يُذِلُّكُمُ اللَّهُ . باب: جب تم اسلام کے علاوہ کسی اور چیز میں عزت تلاش کرو گے تو اللہ تمہیں ذلیل کر دے گا
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، حدثنا أيوب الطائي، عن قيس بن مسلم، عن طارق بن شِهَابٍ، قال: لما قَدِمَ عمرُ الشامَ عرضَتْ له مَخاضَةٌ، فنزل عمر عن بعيره ونزعَ خُفَّيه - أو قال: مُوقَيهِ - وأخذ بخُطامِ راحِلتِه ثم خاضَ المَخاضةَ، فقال له أبو عُبيدة بن الجرّاح: لقد فعلتَ يا أمير المؤمنين فعلًا عظيمًا عند أهل الأرض؛ نَزَعْتَ خُفَّيك وقُدْتَ راحِلتك وخُضْتَ المَخاضةَ، قال: فصَكَّ عمرُ بيده في صدرِ أبي عُبيدة، فقال: أَوْهِ لو غيرُك يقولُها يا أبا عُبيدة، أنتم كنتُم أقلَّ الناس وأذلَّ الناسِ، فأعزّكُم اللهُ بالإسلام، فمهما تَطلبُوا العزةَ بغيرِه يُذلَّكُم اللهُ تعالى (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4481 - سكت عنه الذهبي في التلخيصسیدنا طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ شام پہنچے تو ان کے سامنے پانی کی ایک گزرگاہ آئی، سیدنا عمر اپنی اونٹنی سے نیچے اترے، اپنے چمڑے کے موزے اتارے، اپنی اونٹنی کی نکیل پکڑی اور اسے پانی میں سے لے کر گزرنے لگے، تو سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ نے آج اہل زمین (اہل شام) کے سامنے ایک بہت بڑا (عجیب) کام کیا ہے؛ آپ نے موزے اتارے، اونٹنی کی نکیل خود تھامی اور پانی میں سے پیدل گزرے؟ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ سیدنا ابوعبیدہ کے سینے پر مارا اور فرمایا: ”کاش! تمہارے علاوہ کوئی اور یہ بات کہتا اے ابوعبیدہ، تم سب سے قلیل اور ذلیل لوگ تھے، پھر اللہ نے تمہیں اسلام کے ذریعے عزت بخشی، پس جب کبھی تم اسلام کے سوا کسی اور چیز میں عزت تلاش کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ذلیل و خوار کر دے گا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ یہ پہلے نمبر (208) پر علی بن المدینی عن سفیان (ابن عیینہ) کے طریق سے، اور نمبر (209) پر اعمش عن قیس بن مسلم کے طریق سے گزر چکی ہے۔