المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
كَانَ وَفَاةُ أَبِي بَكْرٍ مِنَ السُّمِّ باب: حضرت ابو بکرؓ کی وفات زہر کے اثر سے ہوئی
حدیث نمبر: 4460
فحدثني بكر بن محمد الصَّيْرفي بِمَرُو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل، حدثنا مكّي بن إبراهيم، حدثنا السَّرِيّ بن إسماعيل، عن الشَّعْبي، أنه قال: ماذا يُتوقَّعُ من هذه الدنيا الدَّنِيَّة وقد سُمَّ رسولُ الله ﷺ، وسُمَّ أبو بكر الصِّدِّيق، وقُتل عمرُ حَتْفَ أنفِه، وكذلك قُتل عثمانُ وعليٌّ، وسُمَّ الحسنُ، وقُتل الحُسين حَتْفَ أنفِه (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4412 - السري متروكحافظ طلحہ بابر
امام شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اس ذلیل دنیا سے اب کیا توقع رکھی جا سکتی ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ کو زہر دیا گیا، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو زہر دیا گیا، عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا، اسی طرح عثمان اور علی رضی اللہ عنہما کو شہید کر دیا گیا، حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دیا گیا اور حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف جدًّا، قال الذهبي في "تلخيصه": السَّرِيُّ متروك.
درجۂ حدیث: اس کی سند ’’سخت ضعیف‘‘ ہے۔ ذہبی نے اپنی ’’تلخیص‘‘ میں فرمایا: السری ’’متروک‘‘ ہے۔
وهو مكرر الخبر المتقدم برقم (4443) غير أنه ذكر هناك داود بن يزيد الأَوْدي بدل السّرِيّ، وهو ضعيف أيضًا.
فنی نکتہ / علّت: یہ خبر (نمبر 4443) پر گزر چکی ہے اور یہاں مکرر ہے، سوائے اس کے کہ وہاں السری کی جگہ ’’داود بن یزید الاودی‘‘ کا ذکر تھا، اور وہ بھی ضعیف ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند ’’سخت ضعیف‘‘ ہے۔ ذہبی نے اپنی ’’تلخیص‘‘ میں فرمایا: السری ’’متروک‘‘ ہے۔
وهو مكرر الخبر المتقدم برقم (4443) غير أنه ذكر هناك داود بن يزيد الأَوْدي بدل السّرِيّ، وهو ضعيف أيضًا.
فنی نکتہ / علّت: یہ خبر (نمبر 4443) پر گزر چکی ہے اور یہاں مکرر ہے، سوائے اس کے کہ وہاں السری کی جگہ ’’داود بن یزید الاودی‘‘ کا ذکر تھا، اور وہ بھی ضعیف ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4460 سے ماخوذ ہے۔