حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا أبو معاوية عن الأعمش، عن عبد الله بن مُرَّة، عن أبي الأحوص، عن عبد الله قال: لأن أحلفَ تِسعًا أنَّ رسول الله ﷺ قُتِلَ قَتْلًا، أحبُّ إليَّ من أن أحلفَ واحدةً أنه لم يُقتل، وذلك أنَّ الله ﷿ اتخذه نبيًا واتخذه شهيدًا (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4394 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4394 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نو بار اس بات پر قسم کھاؤں کہ رسول اللہ ﷺ (زہر کے اثر سے) شہید کیے گئے ہیں، تو یہ مجھے اس بات پر ایک بار قسم کھانے سے زیادہ محبوب ہے کہ آپ شہید نہیں ہوئے، اور یہ اس لیے ہے کہ اللہ عزوجل نے آپ کو منصبِ نبوت کے ساتھ ساتھ مقامِ شہادت پر بھی فائز فرمایا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
فحدثنا أبو أحمد بكر بن محمد المَروَزي غيرَ مرة، حدَّثنا عبد الصمد بن الفَضْل البَلْخي، حدَّثنا مَكِّي بن إبراهيم، حدَّثنا داود بن يزيد الأَوْدِي، قال: سمعت الشَّعْبي يقول: والله لقد سُمَّ رسولُ الله ﷺ، وسُمَّ أبو بكر الصّدّيق، وقُتل عُمر بن الخطاب صَبْرًا، وقُتل عثمان بن عفّان صَبْرًا، وقُتل علي بن أبي طالب صَبْرًا، وسُمَّ الحسنُ بن علي، وقُتل الحسين بن علي صَبْرًا، فما نَرجُوا بعدَهم؟ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4395 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4395 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ کو زہر دیا گیا، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو زہر دیا گیا، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو قید و بند کی حالت میں (اچانک) شہید کیا گیا، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو مظلومانہ طور پر شہید کیا گیا، سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو زہر دیا گیا اور سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو مظلومانہ طور پر شہید کیا گیا، تو ان (عظیم ہستیوں) کے بعد اب ہم (دنیا سے) کیا امید رکھیں؟
حدّثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدَّثنا عبد الله بن أحمد بن حَنبل، حدّثني أبي، حدَّثنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن ثابت عن أنس: أنَّ فاطمةَ بنت رسول الله ﷺ بَكَتْ رسولَ الله ﷺ فقالت: يا أَبَتاه مِن رَبِّه ما أدناه، يا أَبَتاه إلى جبريلَ أَنْعاه، يا أَبَتاه جنةُ الفردَوس مأواه (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4396 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4396 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے (وصال پر) گریہ و زاری کرتے ہوئے کہتی تھیں: ”ہائے ابا جان! جو اپنے رب کے کتنے قریب ہو گئے، ہائے ابا جان! میں جبریل علیہ السلام کو ان کی وفات کی خبر دیتی ہوں، ہائے ابا جان! جنت الفردوس اب ان کا ٹھکانا ہے“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔