المستدرك على الصحيحين
كتاب المغازي والسرايا— غزوہ اور جہاد کی کتاب
اتَّخَذَهُ اللَّهُ نَبِيًّا وَاتَّخَذَهُ شَهِيدًا باب: اللہ تعالیٰ نے انہیں نبی بھی بنایا اور شہید بھی
حدیث نمبر: 4443
فحدثنا أبو أحمد بكر بن محمد المَروَزي غيرَ مرة، حدَّثنا عبد الصمد بن الفَضْل البَلْخي، حدَّثنا مَكِّي بن إبراهيم، حدَّثنا داود بن يزيد الأَوْدِي، قال: سمعت الشَّعْبي يقول: والله لقد سُمَّ رسولُ الله ﷺ، وسُمَّ أبو بكر الصّدّيق، وقُتل عُمر بن الخطاب صَبْرًا، وقُتل عثمان بن عفّان صَبْرًا، وقُتل علي بن أبي طالب صَبْرًا، وسُمَّ الحسنُ بن علي، وقُتل الحسين بن علي صَبْرًا، فما نَرجُوا بعدَهم؟ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4395 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ کو زہر دیا گیا، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو زہر دیا گیا، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو قید و بند کی حالت میں (اچانک) شہید کیا گیا، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو مظلومانہ طور پر شہید کیا گیا، سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو زہر دیا گیا اور سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو مظلومانہ طور پر شہید کیا گیا، تو ان (عظیم ہستیوں) کے بعد اب ہم (دنیا سے) کیا امید رکھیں؟
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) ضعيف لضعف داود بن يزيد الأودي، وسيتكرر برقم (4460) لكن بذكر السّري بن إسماعيل بدل الأودي، وهو متروك الحديث.
درجۂ حدیث: داود بن یزید الاودی کے ضعف کی وجہ سے یہ روایت ’’ضعیف‘‘ ہے۔ یہ عنقریب (نمبر 4460) پر دوبارہ آئے گی لیکن وہاں الاودی کی جگہ ’’السری بن اسماعیل‘‘ کا ذکر ہوگا، اور وہ ’’متروک الحدیث‘‘ ہیں۔
درجۂ حدیث: داود بن یزید الاودی کے ضعف کی وجہ سے یہ روایت ’’ضعیف‘‘ ہے۔ یہ عنقریب (نمبر 4460) پر دوبارہ آئے گی لیکن وہاں الاودی کی جگہ ’’السری بن اسماعیل‘‘ کا ذکر ہوگا، اور وہ ’’متروک الحدیث‘‘ ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4443 سے ماخوذ ہے۔