المستدرك على الصحيحين
كتاب المغازي والسرايا— غزوہ اور جہاد کی کتاب
كَانَ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَامُ طَيِّبًا حَيًّا وَمَيِّتًا باب: نبی کریم ﷺ زندگی میں بھی پاکیزہ تھے اور وفات کے بعد بھی پاکیزہ ہیں
حدیث نمبر: 4445
حدَّثنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلّاب بهَمَذان، حدَّثنا إبراهيم بن نصر الرازي وإبراهيم بن دِيْزِيل، قالا حدَّثنا سليمان بن حَرْب، حدَّثنا حماد بن زيد، عن معمر، عن الزُّهري، عن سعيد بن المُسيّب، عن علي قال: غسَّلتُ رسولَ الله ﷺ، فجعلتُ أنظرُ ما يكون من الميتِ، فلم أرَ شيئًا، وكان طيبًا حيًّا وميتًا ﷺ (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4397 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو غسل دیا، تو میں نے ان آثار کو ڈھونڈنا چاہا جو عام طور پر میت کے جسم پر ظاہر ہوتے ہیں (جیسے تغیر یا ناخوشگواری) مگر میں نے ایسی کوئی چیز نہ دیکھی، آپ ﷺ زندگی میں بھی نہایت پاکیزہ و معطر تھے اور وفات کے بعد بھی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) رجاله ثقات، ولكنه اختلف في وصله وإرساله، والصحيح إرساله كما تقدم بيانه مُفصَّلًا برقم (1355)، إذ تقدم هناك من طريق عبد الواحد بن زياد، عن معمر، عن الزُّهْري، عن سعيد بن المسيب، قال: قال علي بن أبي طالب … وهو على ثبوت إرساله يُعدُّ من أقوى المراسيل، لجلالة سعيد بن المسيّب.
درجۂ حدیث: اس کے رجال ثقہ ہیں، لیکن اس کے موصول اور مرسل ہونے میں اختلاف ہے۔ صحیح یہ ہے کہ یہ ’’مرسل‘‘ ہے جیسا کہ (نمبر 1355) میں تفصیل گزر چکی۔ وہاں یہ عبدالواحد بن زیاد > معمر > زہری > سعید بن مسیب سے مروی تھی کہ علی بن ابی طالب نے کہا...
اہم نکتہ: مرسل ثابت ہونے کے باوجود یہ ’’اقوی المراسیل‘‘ (سب سے قوی مرسل روایات) میں شمار ہوتی ہے، کیونکہ سعید بن مسیب جلیل القدر تابعی ہیں۔
درجۂ حدیث: اس کے رجال ثقہ ہیں، لیکن اس کے موصول اور مرسل ہونے میں اختلاف ہے۔ صحیح یہ ہے کہ یہ ’’مرسل‘‘ ہے جیسا کہ (نمبر 1355) میں تفصیل گزر چکی۔ وہاں یہ عبدالواحد بن زیاد > معمر > زہری > سعید بن مسیب سے مروی تھی کہ علی بن ابی طالب نے کہا...
اہم نکتہ: مرسل ثابت ہونے کے باوجود یہ ’’اقوی المراسیل‘‘ (سب سے قوی مرسل روایات) میں شمار ہوتی ہے، کیونکہ سعید بن مسیب جلیل القدر تابعی ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4445 سے ماخوذ ہے۔