حدیث نمبر: 4444
حدّثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدَّثنا عبد الله بن أحمد بن حَنبل، حدّثني أبي، حدَّثنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن ثابت عن أنس: أنَّ فاطمةَ بنت رسول الله ﷺ بَكَتْ رسولَ الله ﷺ فقالت: يا أَبَتاه مِن رَبِّه ما أدناه، يا أَبَتاه إلى جبريلَ أَنْعاه، يا أَبَتاه جنةُ الفردَوس مأواه (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4396 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے (وصال پر) گریہ و زاری کرتے ہوئے کہتی تھیں: ”ہائے ابا جان! جو اپنے رب کے کتنے قریب ہو گئے، ہائے ابا جان! میں جبریل علیہ السلام کو ان کی وفات کی خبر دیتی ہوں، ہائے ابا جان! جنت الفردوس اب ان کا ٹھکانا ہے“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب المغازي والسرايا / حدیث: 4444
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،معمر: هو ابن راشد الصَّنْعاني، وثابت: هو ابن أسلم البُناني.» [ترقيم الرساله 4444] [ترقيم الشركة 4421] [ترقيم العلميه 4396]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. معمر: هو ابن راشد الصَّنْعاني، وثابت: هو ابن أسلم البُناني.
درجۂ حدیث: اس کی سند ’’صحیح‘‘ ہے۔
فنی نکتہ / علّت: معمر: یہ ابن راشد الصنعانی ہیں۔ اور ثابت: یہ ابن اسلم البنانی ہیں۔
وهو في "مسند أحمد" 20/ (13031).
حوالہ / مصدر: یہ مسند احمد 20/ (13031) میں موجود ہے۔
وأخرجه النسائي (1983)، وابن حبان (6621) من طريقين عن عبد الرزاق، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (1983) اور ابن حبان (6621) نے عبدالرزاق سے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وقد تقدَّم برقم (1424) من طريق حماد بن زيد عن ثابت.
حوالہ / مصدر: یہ (نمبر 1424) پر حماد بن زید > ثابت کے طریق سے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4444 سے ماخوذ ہے۔