کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: میت پر نوحہ کرنے کی کراہت
حدَّثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدَّثنا محمد بن عبد الله الحَضْرمي، حدَّثنا سعيد بن عمرو الأَشعَثِي، حدَّثنا عَبْثَر، عن حُصَين، عن الشَّعْبي، عن النُّعمان بن بَشير قال: أُغمي على عبد الله بن رَوَاحة فجعلتْ أختُه عَمْرةُ تَبكي: وا أُخيّاهُ، وا كذا وا كذا، تَعُدُّ عليه، فقال حينَ أفاقَ: ما قُلتِ شيئًا إِلَّا قيل لي: آنتَ كذلكَ؟ (2) صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4353 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ پر غشی طاری ہو گئی تو ان کی بہن عمرہ رونے لگیں اور ان کی خوبیاں گنوا کر بین کرنے لگیں: ”ہائے میرے بھائی! ہائے تم تو ایسے تھے اور ویسے تھے“، جب انہیں افاقہ ہوا تو انہوں نے بتایا: ”تم نے جو بھی خوبی بیان کی، اس پر (فرشتوں کی جانب سے) مجھ سے بازپرس کی گئی کہ کیا تم واقعی ایسے ہی ہو؟“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب المغازي والسرايا / حدیث: 4401
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،عَبثَر: هو ابن القاسم، وحُصين: هو ابن عبد الرحمن السُّلَمي، والشَّعبي: هو عامر بن شَراحيل.» [ترقيم الرساله 4401] [ترقيم الشركة 4378] [ترقيم العلميه 4353]
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبّار، حدَّثنا يونس بن بُكَير، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، قال: سمعتُ خالد بن الوليد يقول: لقد اندقَّ في يَدِي يومَ مؤتة تسعةُ (1) أسيافٍ، ما بقيَ في يَدِي إلَّا صَفِيحةٌ يَمانِيَةٌ (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد اتّفق الشيخانِ (3) على حديث حُميد بن هِلال عن أنس بن مالك عن رسول الله ﷺ في غزوة مُؤتَة: "أخَذَ الرايةَ زيدُ بن حارثة أخَذَها فأُصِيبَ، ثم أَخَذَها جعفرٌ فأُصِيبَ، ثم أخَذَها عبدُ الله بن رَواحة فأُصِيبَ"، ثم إنَّ رسول الله ﷺ بعثَ خالد بن الوليد إلى مؤتة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4354 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
قیس بن ابی حازم سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”غزوہ موتہ کے دن میرے ہاتھ میں نو تلواریں ٹوٹ گئیں اور میرے ہاتھ میں صرف ایک یمنی تیغ باقی بچی تھی۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ نیز شیخین نے حمید بن ہلال کی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی اس حدیث پر اتفاق کیا ہے جو غزوہ موتہ کے متعلق ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جھنڈا زید بن حارثہ نے تھاما اور وہ شہید ہو گئے، پھر اسے جعفر نے تھاما اور وہ بھی شہید ہو گئے، پھر اسے عبداللہ بن رواحہ نے تھاما اور وہ بھی شہید ہو گئے“، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو موتہ کی طرف روانہ فرمایا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب المغازي والسرايا / حدیث: 4402
درجۂ حدیث محدثین: خبر صحيح
تخریج حدیث «خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أحمد بن عبد الجبار» [ترقيم الرساله 4402] [ترقيم الشركة 4379] [ترقيم العلميه 4354]
فحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق قال: حدّثني عبد الله بن أبي بكر بن عمرو بن حَزْم، عن عامر بن عبد الله بن الزُّبير، عن أم سلمة: أنها قالت لامرأةِ سلمة بن هِشام بن المُغيرة: ما لي لا أرى سلمةَ يَحضُر الصلاةَ مع رسول الله ﷺ ومع المسلمين؟ قالت: والله ما يستطيعُ أن يَخرُجَ، كلّما خَرَجَ صاحَ به الناسُ يا فُرّارُ، أفَرَرتُم في سبيل الله؟! حتى قعدَ في بيتِه فما يَخرُج، وكان في غزوة مُؤتةَ مع خالدِ بن الوليد (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4355 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا سلمہ بن ہشام بن مغیرہ کی اہلیہ سے پوچھا: ”کیا وجہ ہے کہ میں سلمہ کو رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے ساتھ نماز میں حاضر ہوتے نہیں دیکھتی؟“ انہوں نے جواب دیا: ”اللہ کی قسم! وہ (شرمندگی کے باعث) باہر نہیں نکل سکتے، کیونکہ جب بھی وہ باہر نکلتے ہیں تو لوگ انہیں یہ کہہ کر پکارتے ہیں کہ اے فرار ہونے والو! کیا تم اللہ کی راہ سے بھاگ کر آ گئے ہو؟ اسی طعنے کی وجہ سے وہ اپنے گھر میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں اور باہر نہیں نکلتے“، واضح رہے کہ وہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ غزوہ موتہ میں شریک تھے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب المغازي والسرايا / حدیث: 4403
درجۂ حدیث محدثین: رجاله لا بأس بهم
تخریج حدیث «رجاله لا بأس بهم، لكن عامر بن عبد الله بن الزبير لم يسمعه من أم سلمة كما تُوهمه رواية الحاكم هنا، وقد ساق الحاكم إسنادَ هذا الخبر في رواية البيهقيّ عنه في "الدلائل" 4/ 374 بسياقةٍ أضبط مما ساقه هنا، حيث قال: عن عامر بن عبد الله بن الزبير أنَّ ...» [ترقيم الرساله 4403] [ترقيم الشركة 4380] [ترقيم العلميه 4355]
أخبرنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدَّثنا الحسن بن الجَهم، حدَّثنا الحسين بن الفَرَج، حدَّثنا الواقِديّ، حدَّثنا خالد بن إلياسَ عن الأعرج، عن أبي هريرة قال: لقد كان بيني وبين ابن عَمٍّ لي كلامٌ فقال: ألا فِرارَك يومَ مُؤتةَ، فما دَريتُ أيَّ شيءٍ أقولُ له (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میرے اور میرے ایک چچا زاد بھائی کے درمیان تلخ کلامی ہو گئی تو اس نے (مجھے طعنہ دیتے ہوئے) کہا: کیا تم وہی نہیں ہو جو غزوہ موتہ کے دن فرار ہو گئے تھے؟ اس کی یہ بات سن کر مجھے سمجھ نہ آیا کہ اسے کیا جواب دوں۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب المغازي والسرايا / حدیث: 4404
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا من أجل الواقدي» [ترقيم الرساله 4404] [ترقيم الشركة 4381]