حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، عن المُنذر بن ثَعلبة، عن عبد الله بن بُريدة، عن أبيه قال: بعثَ رسولُ الله ﷺ عمرو بن العاص في غزوة ذات السَّلاسل، وفيهم أبو بكر وعمر، فلما انتهَوا إلى مكانِ الحربِ أمَرَهم عَمرو أن لا يُنوِّروا نارًا، فغضبَ عمرُ وهَمَّ أن ينالَ منه، فنهاهُ أبو بكر وأخبره أنه لم يستعملْه رسولُ الله ﷺ عليكَ إِلَّا لِعِلْمِه بالحَرْب، فهَدَأَ عنه عمرُ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4357 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4357 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ ذات السلاسل میں سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو امیر بنا کر بھیجا جبکہ اس لشکر میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی شامل تھے، جب وہ جائے وقوعہ پر پہنچے تو سیدنا عمرو بن العاص نے حکم دیا کہ کوئی شخص آگ نہ جلائے، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے اور ان سے سختی سے نمٹنے کا ارادہ کیا، مگر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں روک دیا اور سمجھایا کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں تم پر محض اس لیے امیر مقرر کیا ہے کیونکہ وہ جنگی چالوں کے ماہر ہیں، تب جا کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا غصہ ٹھنڈا ہوا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدّثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدَّثنا محمد بن أحمد بن النَّضْر الأزدي، حدَّثنا معاوية بن عمرو، حدَّثنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن محمد بن أبي حَفْصة، عن الزُّهْري، عن عُبيد الله بن عبد الله، عن ابن عبّاس، قال: كان الفتحُ لثلاثَ عشرةَ خَلَتْ من شهرِ رمضانَ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4358 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4358 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”فتحِ مکہ رمضان المبارک کی تیرہ تاریخ کو ہوئی تھی۔“