المستدرك على الصحيحين
كتاب المغازي والسرايا— غزوہ اور جہاد کی کتاب
كَرَاهِيَةُ النِّيَاحَةِ عَلَى الْمَوْتَى باب: میت پر نوحہ کرنے کی کراہت
حدیث نمبر: 4404
أخبرنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدَّثنا الحسن بن الجَهم، حدَّثنا الحسين بن الفَرَج، حدَّثنا الواقِديّ، حدَّثنا خالد بن إلياسَ عن الأعرج، عن أبي هريرة قال: لقد كان بيني وبين ابن عَمٍّ لي كلامٌ فقال: ألا فِرارَك يومَ مُؤتةَ، فما دَريتُ أيَّ شيءٍ أقولُ له (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میرے اور میرے ایک چچا زاد بھائی کے درمیان تلخ کلامی ہو گئی تو اس نے (مجھے طعنہ دیتے ہوئے) کہا: کیا تم وہی نہیں ہو جو غزوہ موتہ کے دن فرار ہو گئے تھے؟ اس کی یہ بات سن کر مجھے سمجھ نہ آیا کہ اسے کیا جواب دوں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف جدًّا من أجل الواقدي - وهو محمد بن عمر وشيخه خالد بن إلياس.
درجۂ حدیث: اس کی سند "سخت ضعیف" (ضعیف جدًا) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ "واقدی" (محمد بن عمر) اور ان کے شیخ "خالد بن الیاس" ہیں۔
وهو في مغازي "الواقدي" 2/ 765.
حوالہ / مصدر: یہ روایت واقدی کی "المغازی" (2/ 765) میں موجود ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند "سخت ضعیف" (ضعیف جدًا) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ "واقدی" (محمد بن عمر) اور ان کے شیخ "خالد بن الیاس" ہیں۔
وهو في مغازي "الواقدي" 2/ 765.
حوالہ / مصدر: یہ روایت واقدی کی "المغازی" (2/ 765) میں موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4404 سے ماخوذ ہے۔