کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: غزوۂ بدر کے دن نبی کریم ﷺ کا تلوار ذوالفقار کو اپنے لیے خاص کرنا
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني ابن أبي الزِّنَاد، عن أبيه، عن عُبيد الله بن عبد الله بن عُتبة بن مَسعُود، عن ابن عبّاس، قال: تنفَّل رسولُ الله ﷺ سيفَه ذا الفَقَار يومَ بدرٍ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وإنما أخرجتُه في هذا الموضع لأخبار واهِيةٍ أَنَّ ذَا الفَقَار مِن خيبر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4344 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وإنما أخرجتُه في هذا الموضع لأخبار واهِيةٍ أَنَّ ذَا الفَقَار مِن خيبر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4344 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے اپنی تلوار ”ذو الفقار“ غزوہ بدر کے دن مالِ غنیمت میں سے (بطورِ خاص) لی تھی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور میں نے اسے یہاں ان ضعیف خبروں کی تردید کے لیے ذکر کیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ ذو الفقار خیبر کے دن ملی تھی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور میں نے اسے یہاں ان ضعیف خبروں کی تردید کے لیے ذکر کیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ ذو الفقار خیبر کے دن ملی تھی۔
أخبرنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدَّثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدّثنى أبي، حدَّثنا أبو أحمد، حدَّثنا سفيان، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة قالت: كانت صفيةُ من الصَّفِيِّ (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4345 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4345 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا «صنيف» (یعنی اس مخصوص حصے) میں سے تھیں جو نبی کریم ﷺ مالِ غنیمت کی تقسیم سے پہلے اپنے لیے منتخب فرماتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدَّثنا يحيى بن أبي بُكَير، حدَّثنا أبو جعفر الرازي، عن مُطرِّف، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، قال: سمعت عليًّا يقول: ولَّاني رسولُ الله ﷺ خُمسَ الخُمُس، فوضعتُه مَواضِعَه حياةَ رسولِ الله ﷺ وأبي بكر وعُمر (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4346 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4346 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھے ”خمس کے خمس“ (مالِ غنیمت کے پانچویں حصے کے پانچویں حصے) کا نگران مقرر فرمایا تھا، پس میں نے رسول اللہ ﷺ، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی زندگیوں میں اسے ان کے متعینہ مقامات پر ہی صرف کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، قال: حدّثني ثَور بن زَيْد، عن سالم مولى عبد الله بن مُطِيع، عن أبي هريرة، قال: انصَرفْنا معَ رسول الله ﷺ عن خَيبرَ إلى وادي القُرى، ومعه غُلامٌ له أهداهُ له رِفاعة بن زيد الجُذَامِي، فبينما هو يَضَعُ رَحْلَ رسول الله ﷺ مع مُغَيرِب الشمسِ أتاهُ سهمُ غَرْبٍ فقتله - وهو السهم الذي لا يُدرَى من رَمى به - فقلنا له: هنيئًا له الجنةُ، فقال رسول الله ﷺ: "كلّا والذي نفسُ محمدٍ بيدِه، إِنَّ شَمْلتَه الآنَ لَتَحترِقُ (2) عليه في النار، غَلَّها من فَيْء المسلمين يومَ خيبر"، فجاء رجلٌ من أصحاب رسول الله ﷺ فَزِعًا حين سَمِعَ رسول الله ﷺ يقول ذلك، فقال: يا رسول الله، أصبتُ شِراكَينِ لِنعلَين لي، فقال رسولُ الله ﷺ: "يُقَدُّ لك مثلُهما في النار" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، إنما اتفقا على حديث مالك، عن ثور بن زيد بهذا الإسناد: خَرجْنا إلى خَيبرَ، فلم نَغنمْ ذهبًا ولا فضةً، الحديث.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4347 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، إنما اتفقا على حديث مالك، عن ثور بن زيد بهذا الإسناد: خَرجْنا إلى خَيبرَ، فلم نَغنمْ ذهبًا ولا فضةً، الحديث.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4347 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیبر سے وادی القریٰ کی طرف روانہ ہوئے، آپ ﷺ کے ساتھ ایک غلام تھا جو انہیں رفاعہ بن زید جذامی نے تحفے میں دیا تھا، جس وقت وہ سورج غروب ہونے کے قریب رسول اللہ ﷺ کا کجاوہ اتار رہا تھا، اسے ایک نامعلوم سمت سے تیر آ کر لگا جس سے وہ قتل ہو گیا، ہم نے کہا: اسے جنت مبارک ہو، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «كَلَّا وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنَّ شَمْلَتَهُ الْآنَ لَتَحْتَرِقُ عَلَيْهِ فِي النَّارِ، غَلَّهَا مِن فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ خَيْبَرَ» ”ہرگز نہیں! اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے، وہ چادر جو اس نے خیبر کے دن مسلمانوں کے مشترکہ مالِ غنیمت سے خیانت کر کے لی تھی، وہ اب آگ بن کر اس پر جل رہی ہے“، یہ سن کر ایک شخص گھبرا کر حاضر ہوا اور کہا: یا رسول اللہ! میں نے اپنی جوتیوں کے لیے دو تسمے لیے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسی طرح کے دو تسمے تیرے لیے آگ میں تیار کیے جائیں گے“۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف مالک عن ثور بن زید کی سند سے اس کا ابتدائی حصہ روایت کیا ہے کہ ہم خیبر کی طرف نکلے اور وہاں سونا چاندی غنیمت میں نہیں ملا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف مالک عن ثور بن زید کی سند سے اس کا ابتدائی حصہ روایت کیا ہے کہ ہم خیبر کی طرف نکلے اور وہاں سونا چاندی غنیمت میں نہیں ملا۔