کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اُحد کے شہداء کی طرف سے سلام کا جواب دینا اور ان کا کلام کرنا
حدثنا أبو بكر إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الفقيه بالرّي، حدثنا محمد بن المغيرة السُّكّري، حدثنا عبد الرحمن بن علقمة المَروَزي، حدثنا العَطَّاف بن خالد المخزومي، حدثني عبد الأعلى بن عبد الله بن أبي فروة، عن أبيه: أنَّ النبي ﷺ زار قُبورَ الشهداء بأحدٍ، فقال: "اللهمَّ إِنَّ عَبْدَكَ ونَبيَّك يشهدُ أنَّ هؤلاءِ شُهداء، وأنه مَن زَارَهُم وسلَّم عليهم إلى يوم القيامة رَدُّوا عليه" (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4320 - مرسل
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4320 - مرسل
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد الاعلی بن عبد اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے احد کے شہداء کی قبروں کی زیارت کی اور فرمایا: «اللَّهُمَّ إِنَّ عَبْدَكَ وَنَبِيَّكَ يَشْهَدُ أَنَّ هَؤُلَاءِ شُهَدَاءُ، وَأَنَّهُ مَنْ زَارَهُمْ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ رَدُّوا عَلَيْهِ» ”اے اللہ! بے شک تیرا بندہ اور تیرا نبی گواہی دیتا ہے کہ یہ سب شہداء ہیں، اور جو کوئی بھی قیامت کے دن تک ان کی زیارت کرے گا اور انہیں سلام پیش کرے گا، وہ اسے سلام کا جواب دیں گے۔“
قال العَطَّاف: وحدثتني خالتي أنها زارت قبور الشُّهداء، قالت: وليس معى إلَّا غُلامانِ يَحفَظان على الدابةَ، فسلَّمتُ عليهم، فسمعت ردَّ السلام، قالوا: والله إنا نَعرِفُكم كما يعرف بعضنا بعضًا، قالت: فاقشعررتُ، فقلتُ: يا غُلام، أَدْنِ بَغْلَتي، فركبتُ (1). هذا إسناد مديني صحيح، ولم يخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
عطاف بیان کرتے ہیں کہ مجھے میری خالہ نے بتایا کہ انہوں نے شہداء کی قبروں کی زیارت کی، وہ کہتی ہیں کہ میرے ساتھ سوائے دو لڑکوں کے اور کوئی نہ تھا جو سواری کی حفاظت کر رہے تھے، میں نے شہداء کو سلام کیا تو میں نے ان کے سلام کا جواب سنا، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم تمہیں ایسے ہی پہچانتے ہیں جیسے ہم ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں، وہ کہتی ہیں کہ (یہ سن کر) مجھ پر کپکپی طاری ہو گئی، میں نے کہا: اے لڑکے! میری خچر قریب لاؤ، اور میں سوار ہو کر واپس آ گئی۔
یہ اسناد مدنی راویوں کے اعتبار سے صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ اسناد مدنی راویوں کے اعتبار سے صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا عباس بن محمد الدُّوري، حدثنا أبو النضر، حدثنا أبو سعيد المُؤدِّب، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة: أنها قالت لعبد الله بن الزبير: يا ابنَ أُختِي، أما واللهِ إِنَّ أباكَ وجَدَّك - تعني أبا بكر والزبير - لَمِنَ الذين قال الله ﷿: ﴿الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ﴾ [آل عمران: 172] (2).
هذا حديث صحيح، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4321 - صحيح
هذا حديث صحيح، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4321 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے میرے بھانجے! اللہ کی قسم! تمہارے والد (زبیر) اور تمہارے نانا (ابوبکر) یقیناً ان لوگوں میں سے تھے جن کے بارے میں اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا ہے: ﴿الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ﴾ [آل عمران: 172] ”وہ لوگ جنہوں نے زخم کھانے کے بعد بھی اللہ اور رسول کے حکم کو مانا۔“
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔