المستدرك على الصحيحين
كتاب المغازي والسرايا— غزوہ اور جہاد کی کتاب
رَدُّ جَوَابِ السَّلَامِ مِنْ شُهَدَاءِ أُحُدٍ وَكَلَامُهُمْ باب: اُحد کے شہداء کی طرف سے سلام کا جواب دینا اور ان کا کلام کرنا
حدیث نمبر: 4367
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا عباس بن محمد الدُّوري، حدثنا أبو النضر، حدثنا أبو سعيد المُؤدِّب، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة: أنها قالت لعبد الله بن الزبير: يا ابنَ أُختِي، أما واللهِ إِنَّ أباكَ وجَدَّك - تعني أبا بكر والزبير - لَمِنَ الذين قال الله ﷿: ﴿الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ﴾ [آل عمران: 172] (2).
هذا حديث صحيح، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4321 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے میرے بھانجے! اللہ کی قسم! تمہارے والد (زبیر) اور تمہارے نانا (ابوبکر) یقیناً ان لوگوں میں سے تھے جن کے بارے میں اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا ہے: ﴿الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ﴾ [آل عمران: 172] ”وہ لوگ جنہوں نے زخم کھانے کے بعد بھی اللہ اور رسول کے حکم کو مانا۔“
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح، وهو مكرر ما تقدم برقم (3204). وأبو النضر: هو هاشم بن القاسم.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے، اور یہ نمبر (3204) پر گزرنے والی روایت کا مکرر ہے۔ (سند میں موجود) ابو النضر سے مراد ہاشم بن القاسم ہیں۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے، اور یہ نمبر (3204) پر گزرنے والی روایت کا مکرر ہے۔ (سند میں موجود) ابو النضر سے مراد ہاشم بن القاسم ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4367 سے ماخوذ ہے۔