کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: حضرت عمرو بن قیسؓ کی شہادت اور بغیر نماز پڑھے جنت میں داخل ہونا
أخبرني محمد بن محمد بن الحسن القارِزِيّ (2)، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حجاج بن مِنْهال، حدثنا حماد بن سَلمة، عن محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة: أنَّ عمرو بن أُقيش كان له رِبًا في الجاهلية، وكان يمنعُه ذلك الرِّبا من الإسلام، حتى يأخُذَه ثم يُسلِم، فجاء ذات يوم ورسول الله ﷺ وأصحابه بأحدٍ، فقال: أين سعد بن معاذ، فقيل: بأحدٍ، فقال: أين بنُو أخيه؟ فقيل: بأحدٍ، فسأل عن قومه، فقالوا: بأحدٍ، فأخذ سيفه ورُمحَه، ولبس لأمته، ثم ذهب إلى أُحدٍ، فلما رأوه المسلمون، قالوا: إليك عنا يا عَمْرو، قال: إني قد آمنتُ، فَحَمَلَ فقاتل، فحُمِلَ إلى أهلِه جريحًا، فدخل عليه سعدُ بن مُعاذ، فقال له: جئت غضبًا الله ولرسوله، أم حَمِيّةً وغَضَبًا لقومك؟ فقال: بل جئتُ غَضَبًا الله ولرسوله. فقال أبو هريرة: فدخل الجنة وما صلَّى اللهِ صلاةً (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4317 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمرو بن اقییش کا دورِ جاہلیت کا کچھ سود لوگوں کے ذمہ واجب الادا تھا اور یہی سود انہیں اسلام قبول کرنے سے روک رہا تھا تاکہ وہ اسے پہلے وصول کر لیں اور پھر اسلام لائیں، وہ ایک دن آئے جبکہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ مقامِ احد پر موجود تھے، انہوں نے پوچھا کہ سعد بن معاذ کہاں ہیں؟ بتایا گیا کہ احد میں، پھر پوچھا کہ ان کے بھتیجے کہاں ہیں؟ کہا گیا کہ احد میں، پھر اپنی قوم کے بارے میں دریافت کیا تو لوگوں نے کہا کہ وہ بھی احد میں ہیں، پس انہوں نے اپنی تلوار اور نیزہ پکڑا، زرہ پہنی اور احد کی طرف روانہ ہو گئے، جب مسلمانوں نے انہیں دیکھا تو کہا کہ اے عمرو! ہم سے دور رہو، انہوں نے جواب دیا کہ میں ایمان لا چکا ہوں، پھر انہوں نے بھرپور حملہ کیا اور قتال کیا یہاں تک کہ زخمی حالت میں اپنے گھر والوں کی طرف لائے گئے، سیدنا سعد بن معاذ ان کے پاس آئے اور ان سے پوچھا کہ تم اللہ اور اس کے رسول کی خاطر غصے میں آئے تھے یا اپنی قوم کی حمیت اور غیرت میں؟ انہوں نے جواب دیا کہ بلکہ میں اللہ اور اس کے رسول کی خاطر غصے میں آیا تھا، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ جنت میں داخل ہو گئے حالانکہ انہوں نے اللہ کے لیے ایک بار بھی نماز نہیں پڑھی تھی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب المغازي والسرايا / حدیث: 4363
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل محمد بن عمرو» [ترقيم الرساله 4363] [ترقيم الشركة 4340] [ترقيم العلميه 4317]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، قال: حدثني عاصم بن عُمر بن قتادة، عن عبد الرحمن بن جابر بن عبد الله، عن أبيه قال: سمعت رسول الله ﷺ إِذا ذَكَرَ أصحابَ أُحدٍ يقول: "أما واللهِ لَوَدِدتُ أني غُودِرتُ مع أصحابي نُحْصَ الجبل"، يقول: قُتِلتُ معهم (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو جب بھی احد کے ساتھیوں کا تذکرہ کرتے سنا تو آپ ﷺ یہی فرماتے تھے: ”اللہ کی قسم! میری تو یہ تمنا تھی کہ میں بھی اپنے صحابہ کے ساتھ پہاڑ کے دامن میں چھوڑ دیا جاتا (یعنی وہیں شہید ہو جاتا)۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب المغازي والسرايا / حدیث: 4364
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل ابن إسحاق. وهو مكرر الحديث المتقدم برقم (2438).» [ترقيم الرساله 4364] [ترقيم الشركة 4341]
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أبو بكر بن أبي الدنيا القُرشي، حدثني علي بن شُعيب، حدثنا ابن أبي فديك، أخبرني سليمان بن داود، عن أبيه، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، أنَّ أباه علي بن الحسين حدثه عن أبيه: أنَّ فاطمة بنت النبي ﷺ كانت تَزُورُ قبرَ عَمِّها حمزة بن عبد المطلب في الأيام، فتُصلِّي وتبكي عنده (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4319 - سليمان بن داود مدني تكلم فيه
حافظ طلحہ بابر
امام علی بن حسین اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا (مختلف) دنوں میں اپنے چچا سیدنا حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کی قبر کی زیارت کے لیے جایا کرتی تھیں، وہاں نماز ادا کرتیں اور روتی تھیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب المغازي والسرايا / حدیث: 4365
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف كما تقدم بيانه برقم (1412).» [ترقيم الرساله 4365] [ترقيم الشركة 4342] [ترقيم العلميه 4319]