أخبرني أبو الحسين محمد بن أحمد بن تَمِيم القَنْطَري ببغداد، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل السُّلَمي، حدثنا سليمان بن أيوب بن سليمان بن موسى بن طلحة الطلحي، حدثني أبي، عن جَدِّي، عن موسى بن طلحة، عن أبيه طلحة بن عُبيد الله، قال: لما كان يوم أحدٍ ارتجزتُ بهذا الشعر: نحنُ حُماة غالبٍ ومالك .... نَذُبُّ عن رسولنا المُبارَكِ نضربُ عنه اليوم في المعاركِ .... ضَرْبَ صِفاحِ الكُومِ في المَبارِكِ فلما انصرف النبي ﷺ يومَ أُحُدٍ قال لحسان: "قُل في طلحة"، فأنشأ حسان وقال: طلحة يومَ الشِّعْبِ آسى محمدًا … على سالكٍ ضاقَتْ عليه وشَقَّتِ يقيه بكفيه الرِّماح وأسلمت .... أشاجِعُه تحت السُّيوف فشَلَّتِ وكان إمام الناس إلا محمدًا .... أقامَ رَحَى الإسلام حتى استَقَلَّتِ (2)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4311 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4311 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب احد کا دن تھا تو میں نے یہ رجزیہ اشعار پڑھے: ”ہم غالب اور مالک (قبیلوں) کے محافظ ہیں، ہم اپنے مبارک رسول کا دفاع کرتے ہیں، ہم آج میدانِ کارزار میں ان کی طرف سے ایسی ضربیں لگاتے ہیں جیسی باڑے میں بیٹھے فربہ اونٹوں کی گردنوں پر ماری جاتی ہیں“، پھر جب نبی کریم ﷺ غزوہ احد سے واپس ہوئے تو آپ ﷺ نے حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”طلحہ کے بارے میں کچھ کہو“، تو حسان رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار کہے: ”طلحہ نے گھاٹی والے دن حضرت محمد ﷺ کی غم خواری کی، اس راستے پر جو ان پر تنگ اور دشوار گزار ہو گیا تھا، انہوں نے اپنے ہاتھوں سے نیزوں کو روکا جبکہ تلواروں کے سائے میں ان کی انگلیاں بے بس ہو کر شل ہو گئیں، اور وہ محمد ﷺ کے علاوہ تمام لوگوں کے پیشوا تھے، انہوں نے اسلام کی چکی کو قائم رکھا یہاں تک کہ وہ پوری طرح مستحکم ہو گئی“۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، قال: فحدثني يحيى بن (1) عباد بن عبد الله بن الزبير، عن أبيه، عن جده، عن (2) الزبير، قال: فرأيتُ رسول الله ﷺ حينَ ذَهَبَ لينهَضَ إلى الصخرة، وكانَ رسول الله ﷺ قد ظاهر بين دِرْعَين، فلم يَستطِعْ أَن يَنهضَ إليها، فجلس طلحةُ بن عُبيد الله تحته، فنَهَضَ رسول الله ﷺ حتى استوى عليها، فقال رسول الله ﷺ: "أوجَبَ طَلْحَةُ" (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4312 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4312 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا جب آپ ﷺ ایک چٹان پر چڑھنے کا ارادہ فرما رہے تھے، اور رسول اللہ ﷺ نے (حفاظت کے لیے) دوہری زرہیں پہن رکھی تھیں، اس لیے آپ ﷺ اس پر نہ چڑھ سکے، تو سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے نیچے بیٹھ گئے (تاکہ آپ ﷺ ان کا سہارا لے سکیں) اور رسول اللہ ﷺ بلند ہو کر چٹان پر برابر ہو گئے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”طلحہ نے (جنت) واجب کر لی ہے“۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا الحسن بن عيسى، حدثنا ابن المبارك، أخبرنا إسحاق بن يحيى، أخبرني موسى بن طلحة: أنَّ طلحةَ رجَعَ بسبع وثلاثين أو خمس وثلاثين بين ضَرْبةٍ وطَعْنةٍ ورَمْيةٍ، فرُصِعَ (1) جَبِينُه وقُطِعت سَبّابتُه، وشَلَّتْ الإصبَعُ التي تليها (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4313 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4313 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
موسیٰ بن طلحہ سے روایت ہے کہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ (غزوہ احد سے) اس حال میں واپس آئے کہ ان کے جسم پر تلواروں کے زخموں، نیزوں کی انیسوں اور تیروں کے سینتیس یا پینتیس نشانات تھے، ان کی پیشانی پر بھی زخم کا نشان پڑ گیا تھا، ان کی کلمہ والی انگلی کٹ گئی تھی اور اس کے ساتھ والی انگلی شل (ناکارہ) ہو گئی تھی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔