کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: غزوۂ اُحد میں حضرت علیؓ، سہل بن حنیفؓ اور سماک بن خرشہؓ کی شجاعت کا ذکر
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أبو الحسن علي بن محمد الثقفي بالكوفة، حدثنا مِنْجابُ بن الحارث التَّمِيمي، قال: وزَعَم سفيان بن عُيينة، عن عمرو بن دينار، عن عكرمة، عن ابن عبّاس، قال: جاء عليّ بسيفه يومَ أُحدٍ قد انحنى، فقال لفاطمة: هاكي السيفَ حَمِيدًا، فإنها قد شَفَتْني، فقال رسول الله ﷺ: "لئن كنتَ أجَدْتَ الضَّرْبَ بسيفك، لقد أجادَه سهل بن حُنَيف، وأبو دُجانة، وعاصم بن ثابت [بن أبي] (1) الأقلح، والحارث بن الصِّمّة" (2).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يخرجاه. وله شاهدٌ صحيح في المغازي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4309 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يخرجاه. وله شاهدٌ صحيح في المغازي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4309 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ غزوہ احد کے دن اپنی تلوار لے کر آئے جو کہ (کثرتِ استعمال سے) مڑ چکی تھی، انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”اس تلوار کو سنبھالو، یہ بڑی ہی قابلِ تعریف ثابت ہوئی ہے اور اس نے آج مجھے (دشمن کے مقابلے میں) سکون پہنچایا ہے“، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم نے اپنی تلوار سے بہترین وار کیے ہیں تو یقیناً سہل بن حنیف، ابو دجانہ، عاصم بن ثابت بن ابی الاقلح اور حارث بن صمہ نے بھی بہترین کارکردگی دکھائی ہے“۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بكير، عن ابن إسحاق، قال: حدثني حسين بن عبد الله بن عبيد الله بن عباس، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال: لما رجع رسول الله ﷺ أعطى فاطمة ابنته سيفه، فقال: "يا بُنيّة، اغسلي عن هذا الدم"، فأعطاها على سيفه، فقال: وهذا فاغسلي عنه دمه، فوالله لقد صَدَقَني اليومَ القتال، فقال رسول الله ﷺ: "لئن كنتَ صَدَقْتَ القتال اليوم، لقد صَدَقَ معك القتال اليوم سهلُ بن حُنيف وسِماكُ بن خَرَشة أبو دُجانة" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4310 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4310 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ ﷺ (میدانِ جنگ سے) واپس تشریف لائے تو اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اپنی تلوار عطا فرمائی اور فرمایا: ”اے پیاری بیٹی! اس سے خون دھو ڈالو“، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی تلوار انہیں تھمائی اور کہا: اس کا خون بھی صاف کر دو، اللہ کی قسم! آج قتال میں اس نے میرا بھرپور ساتھ دیا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم نے آج قتال کا حق سچائی سے ادا کیا ہے تو یقیناً تمہارے ساتھ سہل بن حنیف اور سماک بن خرشہ ابو دجانہ نے بھی قتال کا حق سچائی سے ادا کیا ہے“۔
قال ابن إسحاق: وقال علي بن أبي طالب ﵁ حين ناوَلَ فاطمة ﵍ السيف: أفاطِمُ هاكي السيف غيرَ ذَمِيم … فلستُ برِعَدِيدٍ ولا بلئيمِ لَعَمْري لقد أعذَرْتُ في نصر أحمد … ومرضاةِ ربٍّ بالعبادِ رَحِيم (1)
حافظ طلحہ بابر
ابن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے جس وقت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو تلوار پکڑائی تو یہ اشعار کہے: ”اے فاطمہ! اس تلوار کو تھام لو جو کہ قابلِ ملامت نہیں ہے، میں نہ تو بزدل ہوں اور نہ ہی کم ظرف، اپنی زندگی کی قسم! میں نے حضرت احمد ﷺ کی نصرت اور بندوں پر نہایت رحم فرمانے والے رب کی رضا کی خاطر (جدوجہد کا) حق ادا کر دیا ہے“۔