أخبرنا أبو الحسين محمد بن أحمد القَنْطَري ببغداد وعبد الله بن الحُسين القاضي بِمَرُو، قالا: حدثنا الحارث بن أبي أُسامة، حدثنا محمد بن عيسى بن الطَّبَّاع، حدثنا مُجمِّع بن يعقوب، حدثني محمد بن سليمان الحزامي، قال: سمعتُ أبا أُمامة بن سَهْل بن حُنَيْف يُحدِّث عن أبيه، قال: قال النبي ﷺ: "مَن خَرَجَ حتى يأتي هذا المسجد - يعني مسجد قباءٍ - فيصلِّي فيه، كانت كعَدْلِ عُمْرةٍ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4279 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4279 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوامامہ بن سہل بن حنیف اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اس نیت سے نکلے کہ اس مسجد یعنی مسجد قباء میں آئے اور اس میں نماز پڑھے، تو اسے ایک عمرہ کے برابر ثواب ملے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أحمد بن محمد العنزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا علي بن عبد الله المديني، حدثنا حماد بن أسامة، حدثنا هاشم بن هاشم، قال: سمعتُ عامر بن سعد وعائشة بنت سعد، يقولان: سمعنا سعدًا يقول: لأن أصلّي في مسجد قباءٍ أحبُّ إليَّ من أن أُصلِّيَ في مَسجدِ بيتِ المَقدِس (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4280 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4280 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
عامر بن سعد اور عائشہ بنت سعد سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”مسجد قباء میں نماز پڑھنا مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں مسجد بیت المقدس میں نماز پڑھوں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا هشام بن علي السَّدُوسِي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد بن سلمة، عن ثابت، عن أنس، قال: شهدت يومَ دخل النبي ﷺ المدينة، فلم أر يومًا أحسن ولا أضوأ منه (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4281 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4281 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں اس دن حاضر تھا جس دن نبی کریم ﷺ مدینہ میں داخل ہوئے، میں نے اس دن سے زیادہ خوبصورت اور اس دن سے زیادہ روشن کوئی دن نہیں دیکھا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن البراء، عن أبي بكر الصِّدِّيق، قال: ومَضَى رسول الله ﷺ حتى قدم المدينة، وخرج الناس حتى دخلنا في الطريق، وصاح النساء والخُدّام والغلمان: جاء محمدٌ، جاء رسول الله، الله أكبر، جاء محمدٌ، جاء رسول الله، فلما أصبحَ انطلق فنزل حيثُ أُمر (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4282 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4282 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ آگے بڑھے یہاں تک کہ مدینہ تشریف لائے، لوگ نکل آئے یہاں تک کہ ہم راستے میں داخل ہو گئے، عورتیں، خدام اور بچے بلند آواز سے کہہ رہے تھے: «جَاءَ مُحَمَّدٌ، جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، جَاءَ مُحَمَّدٌ، جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ» ”محمد ﷺ آگئے، اللہ کے رسول آگئے، اللہ اکبر، محمد ﷺ آگئے، اللہ کے رسول آگئے۔“ پھر جب صبح ہوئی تو آپ ﷺ روانہ ہوئے اور وہاں قیام فرمایا جہاں آپ ﷺ کو حکم دیا گیا تھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل، حدثنا هَوْذة بن خليفة، حدثنا عوف بن أبي جَمِيلة، عن زُرَارة بن أَوفَى، عن عبد الله بن سَلَام، قال: لما وَرَدَ رسول الله ﷺ المدينةَ انْجفَلَ الناسُ إليه، وقيل: قدم رسول الله ﷺ، قال: فجئتُ في الناس لأنظُر، فلما تبيَّنْتُ وجهَه عرفتُ أنَّ وجهَه ليس بوجْهِ كذَّاب، وكان أول شيءٍ سمعته يتكلّم أن قال: "يا أيُّها الناسُ، أفشوا السلام، وأطعِمُوا الطعام، وصِلوا الأرحام، وصَلُّوا والناسُ نِيامٌ، تدخُلُوا الجنة بسلامٍ" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4283 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4283 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو لوگ آپ ﷺ کی طرف امڈ آئے اور کہا گیا کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے ہیں، میں بھی لوگوں کے ساتھ دیکھنے کے لیے آیا، جب میں نے آپ ﷺ کے چہرے کو غور سے دیکھا تو میں پہچان گیا کہ یہ چہرہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہو سکتا، اور پہلی بات جو میں نے آپ ﷺ سے سنی وہ یہ تھی کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! سلام کو عام کرو، کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو اور راتوں کو جب لوگ سو رہے ہوں تو نماز پڑھو، تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔