حدیث نمبر: 4328
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن البراء، عن أبي بكر الصِّدِّيق، قال: ومَضَى رسول الله ﷺ حتى قدم المدينة، وخرج الناس حتى دخلنا في الطريق، وصاح النساء والخُدّام والغلمان: جاء محمدٌ، جاء رسول الله، الله أكبر، جاء محمدٌ، جاء رسول الله، فلما أصبحَ انطلق فنزل حيثُ أُمر (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4282 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ آگے بڑھے یہاں تک کہ مدینہ تشریف لائے، لوگ نکل آئے یہاں تک کہ ہم راستے میں داخل ہو گئے، عورتیں، خدام اور بچے بلند آواز سے کہہ رہے تھے: «جَاءَ مُحَمَّدٌ، جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، جَاءَ مُحَمَّدٌ، جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ» ”محمد ﷺ آگئے، اللہ کے رسول آگئے، اللہ اکبر، محمد ﷺ آگئے، اللہ کے رسول آگئے۔“ پھر جب صبح ہوئی تو آپ ﷺ روانہ ہوئے اور وہاں قیام فرمایا جہاں آپ ﷺ کو حکم دیا گیا تھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الهجرة / حدیث: 4328
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،إسرائيل: هو ابن يونس بن أبي إسحاق السبيعي، وأبو إسحاق هو جدُّ إسرائيل، واسمه عمرو بن عبد الله السبيعي، والبراء: هو ابن عازب.» [ترقيم الرساله 4328] [ترقيم الشركة 4305] [ترقيم العلميه 4282]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. إسرائيل: هو ابن يونس بن أبي إسحاق السبيعي، وأبو إسحاق هو جدُّ إسرائيل، واسمه عمرو بن عبد الله السبيعي، والبراء: هو ابن عازب.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اسرائیل سے مراد "ابن یونس بن ابی اسحاق السبیعی" ہیں، اور ابو اسحاق اسرائیل کے دادا ہیں جن کا نام "عمرو بن عبداللہ السبیعی" ہے، اور براء سے مراد "ابن عازب" ہیں۔
وأخرجه أحمد 1 / (3)، ومسلم (3014) (75)، وابن حبان (6281) و (6870) من طرق عن إسرائيل، به. ضمن حديث أبي بكر الصديق في قصة الهجرة وسأله عنها عازب والد البراء، فحدثهما بها أبو بكر، واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (1/ 3)، مسلم (3014/ 75) اور ابن حبان (6281 اور 6870) نے اسرائیل کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
تفصیلِ روایت: یہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی حدیث کے ضمن میں ہے جس میں ہجرت کا قصہ ہے، ان سے براء کے والد عازب نے اس بارے میں پوچھا تھا تو ابوبکرؓ نے انہیں یہ بیان کیا تھا۔
نوٹ: حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کا "ذہول" (بھول) ہے۔
وقد تقدم نحوه برقم (4300) من طريق إبراهيم بن طهمان عن شُعْبة، من حديث البراء لم يذكر فيه أبا بكر، وقد كان البراء صبيًا لدى مقدم رسول الله ﷺ المدينة، فالظاهر أن يكون البراء حضر ذلك في جملة الصبيان والنساء والخُدّام، وسمع الخبر أيضًا من أبي بكر الصديق!
نوٹ / توضیح: اس طرح کی روایت پہلے (رقم 4300) پر ابراہیم بن طہمان عن شعبہ کے طریق سے براء کی حدیث سے گزر چکی ہے، جس میں انہوں نے ابوبکرؓ کا ذکر نہیں کیا۔ براء رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی مدینہ آمد کے وقت بچے تھے، لہٰذا ظاہر یہی ہے کہ براء بچوں، عورتوں اور خدام کے ساتھ وہاں موجود تھے (اور خود دیکھا)، اور یہ خبر (باقی تفصیلات) انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے بھی سنی!
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4328 سے ماخوذ ہے۔