کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: مدینہ پہنچنے پر انصار کا رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کا استقبال کرنا
حدثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بُطَّة الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجهم، حدثنا موسى بن المُساوِر، حدثنا عبد الله بن مُعاذ الصَّنْعاني، حدثنا معمر بن راشد، عن الزُّهْري، قال: أخبرني عُروة بن الزبير، أنه سمع الزبير يذكر: أنه لقي الركب من المسلمين كانوا تجارًا بالشام قافِلين من مكة، عارَضُوا رسول الله ﷺ وأبا بكر بثياب بياضٍ حين سمعوا بخروجهم، فلما سمع المسلمون بالمدينة بمَخْرَج رسول الله ﷺ كانوا يَغْدُون كلَّ غَداةٍ إلى الحَرَّة، فينتظرونه حتى يُؤذيهم حَرَّ الظَّهيرة، فانقلَبُوا يومًا بعدما أطالوا انتظاره، فلما أووا إلى بيوتهم أوفى رجلٌ من يهود أُطْمًا من آطامهم لينظُرَ إليه، فبصر برسول الله ﷺ وأصحابه مُبيِّضين يَزُول بهم السَّرابُ، فلم يملِكِ اليهودي أن قال بأعلى صوته: يا معشر العرب، هذا صاحبكم الذي تنتظرون، فثار المسلمون إلى السلاح، فتلقوا رسول الله ﷺ حتى تلقوه بظهر الحرّة (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4277 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی ملاقات مسلمانوں کے ایک قافلے سے ہوئی جو ملک شام سے تجارت کر کے مکہ کی طرف واپس آ رہے تھے، جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ اور سیدنا ابوبکر کے نکلنے کی خبر سنی تو وہ ان کے لیے سفید لباس لے کر آئے، جب مدینہ کے مسلمانوں کو رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری کی خبر ملی تو وہ ہر صبح حرہ کے مقام تک جاتے اور دوپہر کی تپش تک آپ ﷺ کا انتظار کرتے، ایک دن جب وہ طویل انتظار کے بعد اپنے گھروں کو لوٹ گئے تو ایک یہودی نے اپنے قلعوں میں سے ایک بلند قلعے پر چڑھ کر دیکھا تو اسے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھی سفید لباس میں سراب کی طرح لہراتے ہوئے نظر آئے، وہ یہودی اپنی آواز پر قابو نہ رکھ سکا اور بلند آواز سے پکارا: ”اے گروہِ عرب! یہ تمہارے وہ صاحب ہیں جن کا تم انتظار کر رہے تھے“، پس مسلمان ہتھیار سنبھال کر نکلے اور حرہ کے بیرونی حصے میں رسول اللہ ﷺ کا استقبال کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الهجرة / حدیث: 4323
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لكن عن عروة بن الزبير مرسلًا دون ذكر أبيه
تخریج حدیث «صحيح لكن عن عروة بن الزبير مرسلًا دون ذكر أبيه، فقد رواه عبد الرزاق في "مصنفه" (9743) عن معمر بن راشد، عن الزُّهْري، عن عروة مرسلًا. وكذلك رواه عُقيل بن خالد عن الزُّهري عند البخاري (3906)، وموسى بن عقبة عن الزهري عند البيهقي في "دلائل النبوة" 2/ 498. وخالفهم عُبيد ...» [ترقيم الرساله 4323] [ترقيم الشركة 4300] [ترقيم العلميه 4277]
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بشر بن موسى، حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا زيد بن أسلم، عن عبد الله بن عمر، قال: دَخَل رسول الله ﷺ مسجد بني عمرو بن عوف، وهو مسجد قُباءٍ، يصلّي فيه، فدخل عليه رجالٌ من الأنصار يُسلِّمون عليه، قال ابن عمر: ودخل معهم صهيبٌ، فسألته: كيف كان رسول الله ﷺ يَصنَع إذا سُلِّم عليه وهو في الصلاة، قال: كان يُشير بيده (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4278 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بنو عمرو بن عوف کی مسجد یعنی مسجد قباء میں داخل ہوئے تاکہ وہاں نماز پڑھیں، تب انصار کے کچھ لوگ آپ ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو سلام کرنے لگے، ابن عمر کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بھی تھے، میں نے ان سے پوچھا کہ جب رسول اللہ ﷺ نماز کی حالت میں ہوں اور انہیں سلام کیا جائے تو آپ ﷺ کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: ”آپ ﷺ اپنے ہاتھ سے اشارہ فرماتے تھے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الهجرة / حدیث: 4324
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،الحميدي: هو عبد الله بن الزبير بن عيسى الأسدي، وسفيان: هو ابن عيينة.» [ترقيم الرساله 4324] [ترقيم الشركة 4301] [ترقيم العلميه 4278]