کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: حضرت ابو بکرؓ کا اپنا سارا مال لے کر مدینہ کی طرف ہجرت کرنا
حدثنا علي بن محمد الحمادي بمَرُو، حدثنا أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم السَّرْخَسي، حدثنا عبد الرحمن بن علقمة المروزي، حدثنا عبد الله بن المبارك، عن شُعبة ومسعر، عن عمرو بن مُرّة، عن أبي البختري، عن علي: أنَّ النبي ﷺ قال لجبريل ﵇: "مَن يُهاجِرُ معي؟ " قال: أبو بكر الصديق (2).
هذا حديث صحيح غريب الإسناد والمتن، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4266 - صحيح غريب
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جبرائیل علیہ السلام سے دریافت فرمایا: ”میرے ساتھ ہجرت کون کرے گا؟“ انہوں نے جواب دیا: ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ۔
یہ حدیث سند اور متن کے اعتبار سے صحیح غریب ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الهجرة / حدیث: 4312
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا، علي بن محمد الحمادي - وهو علي بن محمد بن عبد الله بن محمد بن حبيب أبو أحمد الحبيبي - قال الدارقطني: يحدث بنسخ وأحاديث مناكير، ونعته الحاكم نفسُه مرةً بالكذب ومرةً قال فيه: هو أشهر في اللِّين من أن يُسأل عنه. انظر "تاريخ الإسلام" 7/ 909 و 8/ 35.» [ترقيم الرساله 4312] [ترقيم الشركة 4289] [ترقيم العلميه 4266]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بكير، عن ابن إسحاق، عن يحيى بن عبّاد بن عبد الله بن الزبير [عن أبيه] (1) عن أسماء بنت أبي بكر، قالت: لما توجه رسول الله ﷺ من مكة إلى المدينة ومعه أبو بكر، حَمَل أبو بكر معه جميع ماله خمسة آلافٍ أو ستة آلاف درهم، فأتاني جَدّي أبو قحافة وقد ذهب بصره، فقال: إنَّ هذا والله قد فَجَعَكم بماله مع نفسه، فقلتُ: كلا يا أبتِ، قد تَرَكَ لنا خيرًا كثيرًا، فَعَمَدتُ إلى أحجارٍ فَجَعَلتُهن في كُوّة البيت، وكان أبو بكر يَجعَلُ أمواله فيها، وغَطّيت على الأحجار بثوب، ثم جئتُ فأخذت بيده فوضعتها على الثَّوب، فقال: أما إذا ترك هذا فنَعَمْ، قالت: ووالله ما ترك لنا قليلًا ولا كثيرًا (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4267 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مکہ سے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے اور آپ ﷺ کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنا تمام مال، جو کہ پانچ یا چھ ہزار درہم تھے، اپنے ساتھ لے گئے۔ میرے دادا ابو قحافہ میرے پاس آئے، وہ اپنی بینائی کھو چکے تھے، انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! اس شخص (ابوبکر) نے اپنی جان کے ساتھ ساتھ اپنے مال کے معاملے میں بھی تمہیں صدمے میں ڈال دیا ہے۔“ میں نے کہا: ”ابا جان! ہرگز نہیں، وہ تو ہمارے لیے بہت سی خیر (مال) چھوڑ گئے ہیں۔“ چنانچہ میں نے چند پتھر پکڑے اور انہیں گھر کے اس روشن دان (طاق) میں رکھ دیا جہاں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنا مال رکھا کرتے تھے، پھر میں نے ان پتھروں کو ایک کپڑے سے ڈھانپ دیا۔ پھر میں آئی اور ان کا ہاتھ پکڑ کر اسے کپڑے پر رکھا، تو انہوں نے کہا: ”اگر وہ یہ (مال) چھوڑ گیا ہے تو پھر ٹھیک ہے۔“ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اللہ کی قسم! انہوں نے ہمارے لیے تھوڑا یا زیادہ کچھ بھی نہیں چھوڑا تھا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الهجرة / حدیث: 4313
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل ابن إسحاق» [ترقيم الرساله 4313] [ترقيم الشركة 4290] [ترقيم العلميه 4267]