حدیث نمبر: 4313
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بكير، عن ابن إسحاق، عن يحيى بن عبّاد بن عبد الله بن الزبير [عن أبيه] (1) عن أسماء بنت أبي بكر، قالت: لما توجه رسول الله ﷺ من مكة إلى المدينة ومعه أبو بكر، حَمَل أبو بكر معه جميع ماله خمسة آلافٍ أو ستة آلاف درهم، فأتاني جَدّي أبو قحافة وقد ذهب بصره، فقال: إنَّ هذا والله قد فَجَعَكم بماله مع نفسه، فقلتُ: كلا يا أبتِ، قد تَرَكَ لنا خيرًا كثيرًا، فَعَمَدتُ إلى أحجارٍ فَجَعَلتُهن في كُوّة البيت، وكان أبو بكر يَجعَلُ أمواله فيها، وغَطّيت على الأحجار بثوب، ثم جئتُ فأخذت بيده فوضعتها على الثَّوب، فقال: أما إذا ترك هذا فنَعَمْ، قالت: ووالله ما ترك لنا قليلًا ولا كثيرًا (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4267 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مکہ سے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے اور آپ ﷺ کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنا تمام مال، جو کہ پانچ یا چھ ہزار درہم تھے، اپنے ساتھ لے گئے۔ میرے دادا ابو قحافہ میرے پاس آئے، وہ اپنی بینائی کھو چکے تھے، انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! اس شخص (ابوبکر) نے اپنی جان کے ساتھ ساتھ اپنے مال کے معاملے میں بھی تمہیں صدمے میں ڈال دیا ہے۔“ میں نے کہا: ”ابا جان! ہرگز نہیں، وہ تو ہمارے لیے بہت سی خیر (مال) چھوڑ گئے ہیں۔“ چنانچہ میں نے چند پتھر پکڑے اور انہیں گھر کے اس روشن دان (طاق) میں رکھ دیا جہاں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنا مال رکھا کرتے تھے، پھر میں نے ان پتھروں کو ایک کپڑے سے ڈھانپ دیا۔ پھر میں آئی اور ان کا ہاتھ پکڑ کر اسے کپڑے پر رکھا، تو انہوں نے کہا: ”اگر وہ یہ (مال) چھوڑ گیا ہے تو پھر ٹھیک ہے۔“ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اللہ کی قسم! انہوں نے ہمارے لیے تھوڑا یا زیادہ کچھ بھی نہیں چھوڑا تھا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الهجرة / حدیث: 4313
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل ابن إسحاق» [ترقيم الرساله 4313] [ترقيم الشركة 4290] [ترقيم العلميه 4267]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) ما بين المعقوفين سقط من النسخ الخطية، واستدركناه من رواية أبي طاهر المخلّص عند ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 69/ 13 حيث رواه من طريق أحمد بن عبد الجبار، وهو ثابت أيضًا في سائر الروايات عن ابن إسحاق، على أنه لا يُعرف ليحيى رواية عن جدة أبيه أسماء.
نوٹ / توضیح: (1) بریکٹ میں دی گئی عبارت قلمی نسخوں سے ساقط تھی، جسے ہم نے ابن عساکر کی "تاریخ دمشق" (69/ 13) میں موجود ابو طاہر المخلص کی روایت سے مکمل (استدراک) کیا ہے، جہاں انہوں نے اسے احمد بن عبدالجبار کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ ابن اسحاق سے مروی دیگر روایات میں بھی ثابت ہے۔
فنی نکتہ: اس کے ساتھ یہ بات بھی ہے کہ یحییٰ کی اپنے والد کی دادی حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت معروف نہیں ہے۔
(2) إسناده حسن من أجل ابن إسحاق - وهو محمد بن إسحاق بن يسار صاحب "السيرة". وقد صرّح بسماعه عند أحمد.
درجۂ حدیث: (2) یہ سند ابن اسحاق (محمد بن اسحاق بن یسار، صاحبِ سیرت) کی وجہ سے حسن ہے۔
فنی نکتہ: اور انہوں نے مسند احمد میں اپنے "سماع" کی صراحت کر دی ہے (لہٰذا تدلیس کا شبہ نہیں رہا)۔
وأخرجه أحمد 44 / (26957) عن يعقوب بن إبراهيم بن سعد عن أبيه، عن ابن إسحاق، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (44/ 26957) نے یعقوب بن ابراہیم بن سعد عن أبیہ عن ابن اسحاق کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4313 سے ماخوذ ہے۔