المستدرك على الصحيحين
كتاب الهجرة— ہجرت کا بیان
كَسْرُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الصَّنَمَ الْأَكْبَرَ فَوْقَ الْكَعْبَةِ باب: حضرت علیؓ کا کعبہ پر نصب سب سے بڑے بت کو توڑنا
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن موسى القُرشي، حدثنا عبد الله بن داود، حدثنا نُعيم بن حَكيم، حدثنا أبو مريم الأَسَدِي، عن عليٍّ، قال: لما كان الليلةُ التي أمرني رسولُ الله ﷺ أن أَبِيتَ على فراشِه، وخَرَج من مكة مهاجرًا، انطَلَقَ بي رسولُ الله ﷺ إلى الأصنام، فقال: "اجلِسْ" فجلسْتُ إلى جنبِ الكعبة، ثم صَعِدَ رسولُ الله ﷺ على مَنكِبِي، ثم قال: "انهَضْ" فنَهَضْتُ به، فلما رأى ضعفي تحته، قال: "اجلس"، فجلستُ، فأنزلته عني، وجلس لي رسول الله ﷺ، ثم قال لي: "يا علي، اصعد على منكبي" فصَعِدتُ على منكبه، ثم نهض بي رسولُ الله ﷺ، خُيل إليَّ أني لو شئتُ نِلْتُ السماء، وصَعِدتُ إلى الكعبة وتَنحَّى رسول الله ﷺ، فألقيتُ صنمهم الأكبر، وكان من نُحاس مُولَّدًا بأوتادٍ من حديد إلى الأرض، فقال رسول الله ﷺ: "عالجه" فعالجت، فما زلت أعالجه ورسول الله ﷺ يقولُ: "إيه إيه" فلم أَزَلْ أُعالجه حتى استَمْكَنْتُ منه، فقال: "دُقَّهُ" فدقَقْتُه فكسَرتُه، ونَزلتُ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جس رات رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے بستر پر سونے کا حکم دیا اور آپ ﷺ مکہ سے ہجرت کے لیے روانہ ہوئے، تو رسول اللہ ﷺ مجھے بتوں کی طرف لے گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ۔“ چنانچہ میں کعبہ کے پہلو میں بیٹھ گیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ میرے کندھوں پر سوار ہوئے اور فرمایا: ”کھڑے ہو جاؤ۔“ میں آپ ﷺ کو لے کر کھڑا ہوا، لیکن جب آپ ﷺ نے میرے نیچے میری کمزوری کو محسوس کیا تو فرمایا: ”بیٹھ جاؤ۔“ میں بیٹھ گیا اور آپ ﷺ کو اپنے اوپر سے اتار دیا، پھر رسول اللہ ﷺ (خود) میرے لیے بیٹھ گئے اور مجھ سے فرمایا: ”اے علی! میرے کندھوں پر سوار ہو جاؤ۔“ پس میں آپ ﷺ کے کندھوں پر سوار ہو گیا، پھر رسول اللہ ﷺ مجھے لے کر کھڑے ہوئے تو مجھے ایسا گمان ہوا کہ اگر میں چاہوں تو آسمان کو چھو لوں۔ میں کعبہ پر چڑھ گیا اور رسول اللہ ﷺ ایک طرف ہو گئے۔ پھر میں نے ان کا سب سے بڑا بت گرا دیا جو پیتل کا بنا ہوا تھا اور لوہے کی میخوں کے ذریعے زمین میں مضبوطی سے جڑا ہوا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے اکھاڑو۔“ میں اسے اکھاڑنے لگا جبکہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے: «إيه إيه» ”شاباش، جاری رکھو۔“ میں اسے اکھاڑتا رہا یہاں تک کہ میں نے اسے پوری طرح قابو میں کر لیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے توڑ دو۔“ چنانچہ میں نے اسے توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور نیچے اتر آیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
فنی نکتہ / علّت: (1) اس سند میں "محمد بن موسیٰ القرشی" (جو دراصل محمد بن یونس بن موسیٰ الکدیمی ہیں) موجود ہیں اور وہ انتہائی ضعیف (ضعیف جداً) ہیں۔
اہم نکتہ: لیکن یہ حدیث پہلے (رقم 3427) پر نعیم بن حکیم عن ابی مریم الاسدی کے طریق سے گزر چکی ہے (جہاں یہ ضعیف راوی نہیں تھا)۔ یہاں ابو مریم کو "اسدی" منسوب کیا گیا ہے، جبکہ معروف یہ ہے کہ وہ "ثقفی" یا "حنفی" ہیں، جیسا کہ بعض روایات میں آیا ہے۔ چونکہ بنو حنیفہ کا نسب "اسد بن ربیعہ" سے جا ملتا ہے، اس لیے ظاہر ہے کہ بعض راویوں نے ابو مریم کو بنو حنیفہ کے اعلیٰ جد (اسد) کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ اہل علم کی ایک جماعت کے مطابق ان ابو مریم کا نام "قیس" ہے۔