کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: رسول اللہ ﷺ خیر و بھلائی میں تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی تھے
حدثنا أبو عَمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك ببغداد، حدثنا حامد بن سهل الثَّغْري، حدثنا عارِمُ بن الفضل، حدثنا حماد بن زيد، عن أيوب ومعمر والنُّعمان بن راشد، عن الزُّهْري، عن عُرْوة، عن عائشة قالت: ما لَعَنَ رسولُ الله ﷺ مسلمًا من لعنةٍ بذكْرٍ (2)، ولا ضَرَبَ بيده شيئًا قَطُّ إلَّا أن يضربَ بها في سبيل الله، ولا سُئل عن شيء قَطُّ فمنعَه إلَّا أن يُسأل مَأثَمًا، فإن كان مأثمًا كان أبعدَ الناس منه، ولا انتَقَم لِنفسِه من شيء قَطُّ يُؤتى إليه، إلَّا أن تُنتَهَكَ حُرماتُ الله، فيكونُ لله يَنتَقِمُ، ولا خُيِّر بين أمرَين قطُّ إلا اختارَ أيسرَهُما، وكان إذا أحدَث العهد بجبريلَ يُدارِسُه كان أجودَ الناسِ بالخَير مِن الرِّيحِ المُرسَلةِ (3)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة. ومن حديث أيوب السَّختِياني غريبٌ جدًّا، فقد رواه سليمان بن حَرْب وغيرُه عن حماد، ولم يذكروا أيوب، وعارِمٌ ثقة مأمون.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4223 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة. ومن حديث أيوب السَّختِياني غريبٌ جدًّا، فقد رواه سليمان بن حَرْب وغيرُه عن حماد، ولم يذكروا أيوب، وعارِمٌ ثقة مأمون.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4223 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی مسلمان پر (اس کا نام لے کر یا اسے خاص کر کے) لعنت نہیں بھیجی، اور نہ ہی کبھی اپنے ہاتھ سے کسی کو مارا سوائے اس کے کہ وہ اللہ کی راہ میں جہاد ہو، اور آپ ﷺ سے جب بھی کسی چیز کا سوال کیا گیا تو آپ نے کبھی منع نہیں فرمایا سوائے اس کے کہ وہ گناہ کا کام ہو، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتا تو آپ اس سے سب سے زیادہ دور رہنے والے ہوتے، اور آپ ﷺ نے اپنی ذات کے لیے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا الا یہ کہ اللہ کی حدود پامال کی جا رہی ہوں، ایسی صورت میں آپ اللہ کی خاطر انتقام لیتے تھے، اور آپ ﷺ کو جب بھی دو کاموں کے درمیان اختیار دیا گیا تو آپ نے ہمیشہ آسان تر کو اختیار فرمایا، اور جب بھی جبرائیل علیہ السلام آپ سے ملاقات اور دورہ قرآن کرتے تو آپ ﷺ خیر و بھلائی کی سخاوت میں تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ بڑھ کر ہوتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، اور ایوب سختیانی کی یہ روایت نہایت غریب ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، اور ایوب سختیانی کی یہ روایت نہایت غریب ہے۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن يونس بن عمرو، عن العَيزار بن حُرَيث، عن عائشة: أنَّ رسول الله ﷺ مكتوبٌ في الإنجيل: لا فَظٌّ ولا غليظٌ، ولا سَخَّابٌ بالأسواق، ولا يَجزي بالسيئة مثلَها، بل يَعفُو ويَصفَحُ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4224 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4224 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی یہ شان انجیل میں لکھی ہوئی ہے: ”آپ ﷺ نہ تند خو ہیں نہ سخت دل، نہ بازاروں میں شور مچانے والے ہیں اور نہ ہی برائی کا بدلہ برائی سے دیتے ہیں بلکہ آپ ﷺ عفو و درگزر سے کام لیتے ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر محمد بن جعفر الأدَمِي القارئ ببغداد، حدثنا عبد الله بن أحمد بن إبراهيم الدَّوْرَقي، حدثنا أحمد بن نصر بن مالك الخُزاعي، حدثنا علي بن الحسين بن واقِد، عن أبيه، قال: سمعتُ يحيى بن عُقَيل يقول: سمعتُ عبد الله بن أبي أوفى يقول: كان رسولُ الله ﷺ يُكثِرُ الذِّكْرَ، ويُقلُّ اللغوَ، ويُطيلُ الصلاةَ، ويَقصُر الخُطبةَ، ولا يَستنكِفُ أن يمشيَ مع العبدِ والأرملةِ حتى يَفرُغَ لهم من حاجتِهم (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4225 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4225 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کثرت سے اللہ کا ذکر کرتے تھے، لغو باتوں سے بہت دور رہتے تھے، نماز لمبی پڑھاتے اور خطبہ مختصر فرماتے تھے، اور کسی غلام یا بیوہ کے ساتھ چلنے میں کبھی عار محسوس نہیں فرماتے تھے یہاں تک کہ ان کی ضرورت پوری فرما دیتے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا هارون بن سليمان الأصبهاني، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، حدثنا شُعْبة، عن قَتَادة، قال: سمعت عبد الله بن أبي عُتبة يقول: سمعت أبا سعيد الخُدْري يقول: كان رسول الله ﷺ يُكثر الذِّكر، ويُقِلُّ اللغوَ، ويُطيل، الصلاة، ويَقصُر الخُطبَة، ولا يستنكِفُ أن يمشيَ مع العبدِ والأرملةِ، حتى يَفرُغَ لهم من حاجتهم (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه. قال الحاكم: وقد قدَّمتُ هذه الأحاديثَ الصحيحةَ في دلائل النبوة من أخلاق سيدنا المصطفى لقول الله ﷿: ﴿وَلَقَدِ اخْتَرْنَاهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَالَمِينَ﴾ [الدخان: 32] وقوله ﷿: ﴿اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ (1)﴾ [الأنعام: 124] وقوله: ﴿ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ (1) مَا أَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ (2) وَإِنَّ لَكَ لأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ (3) وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾. فاسمع الآن الآياتِ الصحيحةَ بعدها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4226 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه. قال الحاكم: وقد قدَّمتُ هذه الأحاديثَ الصحيحةَ في دلائل النبوة من أخلاق سيدنا المصطفى لقول الله ﷿: ﴿وَلَقَدِ اخْتَرْنَاهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَالَمِينَ﴾ [الدخان: 32] وقوله ﷿: ﴿اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ (1)﴾ [الأنعام: 124] وقوله: ﴿ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ (1) مَا أَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ (2) وَإِنَّ لَكَ لأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ (3) وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾. فاسمع الآن الآياتِ الصحيحةَ بعدها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4226 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کثرت سے ذکر کرتے، لغو کلام کم کرتے، نماز طویل اور خطبہ مختصر فرماتے تھے، اور کسی غلام یا بیوہ کی ضرورت پوری کرنے کے لیے ان کے ساتھ چلنے میں کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں فرماتے تھے۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا مصطفیٰ ﷺ کے اخلاقِ کریمہ کے متعلق یہ صحیح احادیث دلائل نبوت کے طور پر اللہ تعالیٰ کے ان ارشادات کی روشنی میں پیش کی ہیں: ﴿وَلَقَدِ اخْتَرْنَاهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَالَمِينَ﴾ [سورة الدخان: 32] ”اور ہم نے ان کو علم کی بنا پر جہان والوں پر منتخب کیا“ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ﴾ [سورة الأنعام: 124] ”اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اسے اپنی پیغمبری کہاں رکھنی ہے“ اور اللہ کا فرمان ہے: ﴿ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ مَا أَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ وَإِنَّ لَكَ لأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾ ”ن، قسم ہے قلم کی اور اس کی جو وہ لکھتے ہیں، آپ اپنے رب کے فضل سے دیوانے نہیں ہیں اور بے شک آپ کے لیے ایسا اجر ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا اور یقیناً آپ اخلاق کے بلند ترین مرتبے پر فائز ہیں“۔ اب اس کے بعد مزید صحیح نشانیاں ملاحظہ فرمائیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا مصطفیٰ ﷺ کے اخلاقِ کریمہ کے متعلق یہ صحیح احادیث دلائل نبوت کے طور پر اللہ تعالیٰ کے ان ارشادات کی روشنی میں پیش کی ہیں: ﴿وَلَقَدِ اخْتَرْنَاهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَالَمِينَ﴾ [سورة الدخان: 32] ”اور ہم نے ان کو علم کی بنا پر جہان والوں پر منتخب کیا“ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ﴾ [سورة الأنعام: 124] ”اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اسے اپنی پیغمبری کہاں رکھنی ہے“ اور اللہ کا فرمان ہے: ﴿ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ مَا أَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ وَإِنَّ لَكَ لأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾ ”ن، قسم ہے قلم کی اور اس کی جو وہ لکھتے ہیں، آپ اپنے رب کے فضل سے دیوانے نہیں ہیں اور بے شک آپ کے لیے ایسا اجر ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا اور یقیناً آپ اخلاق کے بلند ترین مرتبے پر فائز ہیں“۔ اب اس کے بعد مزید صحیح نشانیاں ملاحظہ فرمائیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا عَلي بن حَمْشَاذَ العَدْل إملاءً، حدثنا هارون بن العباس الهاشمي، حدثنا جَنْدَلُ بن والقٍ، حدثنا عمرو بن أوس الأنصاري، حدثنا سعيد بن أبي عَروبة، عن قَتَادة، عن سعيد بن المسيّب، عن ابن عبّاس، قال: أوحَى اللهُ إلى عيسى ﵇: يا عيسى، آمن بمحمدٍ، وأُمُر من أدركَه من أمتك أن يُؤمنوا به، فلولا محمدٌ ما خلقتُ آدمَ، ولولا محمدٌ ما خلقتُ الجنةَ والنارَ، ولقد خلقتُ العرشَ على الماء، فاضطربَ فكتبتُ عليه: لا إله إلّا الله [محمد رسول الله] (2) فسَكَنَ (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4227 - أظنه موضوعا على سعيد
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4227 - أظنه موضوعا على سعيد
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی: اے عیسیٰ! محمد (ﷺ) پر ایمان لاؤ اور اپنی امت کے ان لوگوں کو حکم دو جو ان کا زمانہ پائیں کہ وہ ان پر ایمان لائیں، اگر محمد (ﷺ) نہ ہوتے تو میں آدم کو پیدا نہ کرتا، اور اگر محمد (ﷺ) نہ ہوتے تو میں جنت اور دوزخ کو پیدا نہ کرتا، اور جب میں نے عرش کو پانی پر پیدا کیا تو وہ لرزنے لگا، پھر میں نے اس پر «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمد اللہ کے رسول ہیں“ لکھا تو وہ ساکن ہو گیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔