المستدرك على الصحيحين
كتاب : آيات رسول الله صلى الله عليه وسلم التي في دلائل النبوة— رسول اللہ ﷺ کی ان نشانیوں (معجزات) کا ذکر جو دلائلِ نبوت میں سے ہیں۔
كَانَ أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ باب: رسول اللہ ﷺ خیر و بھلائی میں تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی تھے
حدیث نمبر: 4271
حدثنا أبو بكر محمد بن جعفر الأدَمِي القارئ ببغداد، حدثنا عبد الله بن أحمد بن إبراهيم الدَّوْرَقي، حدثنا أحمد بن نصر بن مالك الخُزاعي، حدثنا علي بن الحسين بن واقِد، عن أبيه، قال: سمعتُ يحيى بن عُقَيل يقول: سمعتُ عبد الله بن أبي أوفى يقول: كان رسولُ الله ﷺ يُكثِرُ الذِّكْرَ، ويُقلُّ اللغوَ، ويُطيلُ الصلاةَ، ويَقصُر الخُطبةَ، ولا يَستنكِفُ أن يمشيَ مع العبدِ والأرملةِ حتى يَفرُغَ لهم من حاجتِهم (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4225 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کثرت سے اللہ کا ذکر کرتے تھے، لغو باتوں سے بہت دور رہتے تھے، نماز لمبی پڑھاتے اور خطبہ مختصر فرماتے تھے، اور کسی غلام یا بیوہ کے ساتھ چلنے میں کبھی عار محسوس نہیں فرماتے تھے یہاں تک کہ ان کی ضرورت پوری فرما دیتے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث قوي، وهذا إسناد حسن من أجل علي بن الحسين بن واقد، وقد توبع، وحسَّنه البخاري فيما نقله عنه الترمذي في "العلل الكبير" (670)، وقال: وهو حديث الحسين بن واقد تفرّد به.
درجۂ حدیث: یہ حدیث قوی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اور یہ سند علی بن الحسین بن واقد کی وجہ سے "حسن" ہے، اور ان کی متابعت موجود ہے۔ امام بخاری نے اسے "حسن" قرار دیا ہے جیسا کہ ترمذی نے "العلل الکبیر" (670) میں نقل کیا، اور فرمایا: یہ حسین بن واقد کی حدیث ہے جس میں وہ منفرد (متفرد) ہیں۔
وأخرجه النسائي (1728)، وابن حبان (6423) و (6424) من طريق الفضل بن موسى، عن الحسين بن واقد، به.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (1728) اور ابن حبان (6423، 6424) نے فضل بن موسیٰ کے طریق سے حسین بن واقد کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث قوی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اور یہ سند علی بن الحسین بن واقد کی وجہ سے "حسن" ہے، اور ان کی متابعت موجود ہے۔ امام بخاری نے اسے "حسن" قرار دیا ہے جیسا کہ ترمذی نے "العلل الکبیر" (670) میں نقل کیا، اور فرمایا: یہ حسین بن واقد کی حدیث ہے جس میں وہ منفرد (متفرد) ہیں۔
وأخرجه النسائي (1728)، وابن حبان (6423) و (6424) من طريق الفضل بن موسى، عن الحسين بن واقد، به.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (1728) اور ابن حبان (6423، 6424) نے فضل بن موسیٰ کے طریق سے حسین بن واقد کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4271 سے ماخوذ ہے۔