حدیث نمبر: 4268
أخبرني أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سعيد بن أبي عَرُوبة، عن قَتَادة، عن زُرَارة بن أوفَى، عن سعدِ بن هِشام: أنه دخل مع حكيم بن أفْلَحَ على عائشةَ، فسألَها فقال: يا أم المؤمنين، أنبِئيني عن خُلُقِ رسولِ الله ﷺ، قالت: أليس تَقرأُ القرآنَ؟ قال: بلى، قالت: فإِنَّ خُلُقَ نبيِّ الله ﷺ القُرآن (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4222 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سعد بن ہشام سے روایت ہے کہ وہ حکیم بن افلح کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: ”کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟“ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں، تو سیدہ نے فرمایا: ”بے شک اللہ کے نبی ﷺ کا اخلاق قرآن ہی تھا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : آيات رسول الله صلى الله عليه وسلم التي في دلائل النبوة / حدیث: 4268
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،يحيى بن سعيد: هو القطان. وهو في "مسند أحمد" 40/ (24269).» [ترقيم الرساله 4268] [ترقيم الشركة 4245] [ترقيم العلميه 4222]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. يحيى بن سعيد: هو القطان. وهو في "مسند أحمد" 40/ (24269).
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یحییٰ بن سعید سے مراد "القطان" ہیں۔
حوالہ / مصدر: یہ روایت "مسند احمد" 40/ (24269) میں موجود ہے۔
وأخرجه أبو داود (1343) عن محمد بن بشّار، عن يحيى بن سعيد القطان، بهذا الإسناد. لكنه لم يسُق لفظه بتمامه.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (1343) نے محمد بن بشار سے، انہوں نے یحییٰ بن سعید القطان سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے مکمل الفاظ نقل نہیں کیے۔
وأخرجه مسلم (746)، والنسائي (424) طرق عن سعيد بن أبي عَروبة به. واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم (746) اور نسائی (424) نے سعید بن ابی عروبہ کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کا "سہو" (ذہول) ہے (کیونکہ یہ مسلم میں موجود ہے)۔
وقد تقدَّم برقم (3884) من طريق معمر عن قَتَادة.
حوالہ / مصدر: یہ روایت معمر عن قتادہ کے طریق سے نمبر (3884) میں گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4268 سے ماخوذ ہے۔