کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: حضرت یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کی ولادت کی بشارت
أخبرني محمد بن إسحاق الصَّفّار، حدثنا أحمد بن نصر، حدثنا عمرو بن طلحة، حدثنا أسباط بن نَصْر، عن السُّدِّي، عن أبي مالك وأبي صالح، عن ابن عبّاس، وعن مُرَّةَ الهَمْداني، عن عبد الله، قال: ﴿دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ﴾ [آل عِمران: 38] سرًّا، فقال: ﴿رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا وَلَمْ أَكُنْ بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا (4) وَإِنِّي خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِنْ وَرَائِي﴾ [مريم: 4 - 5] وهم العَصَبة، ﴿وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا فَهَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا (5) يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ﴾ يقول: يَرِثُ نبوَّتي ونبوَّة آلِ يعقوب ﴿وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا﴾ [مريم: 6]، وقوله: ﴿هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً﴾ يقول: مباركة: ﴿إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ﴾ [آل عمران:38] وقال: ﴿رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَأَنتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ﴾ [الأنبياء: 89] ﴿فَنَادَتْهُ الْمَلَائِكَةُ﴾ وهو جبريلُ ﴿وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي الْمِحْرَابِ أَنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكَ﴾ [آل عِمران: 39] ﴿بِغُلَامٍ اسْمُهُ يَحْيَى لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا﴾ [مريم: 7] لم يُسمَّ قبله أحدٌ يحيى، وقالت الملائكةُ: ﴿أَنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيَى مُصَدِّقًا بِكَلِمَةٍ مِنَ اللَّهِ﴾ يُصَدِّقُ بعيسى ﴿وَسَيِّدًا وَحَصُورًا﴾ [آل عِمران:39]، والحَصُور: الذي لا يُريد النساءَ، فلما سَمِعَ النداءَ جاءه الشيطانُ، فقال له: يا زكريا، إن الصوتَ الذي سمعتَ ليس من الله، إنما هو من الشيطان سَخِرَ بك، ولو كان من الله أوحاهُ إليك كما يُوحي إليك غيرَه من الأمر، فشكَّ مكانَه، وقال: ﴿أَنَّى يَكُونُ لِي غُلَامٌ﴾ يقول: من أين ﴿وَقَدْ بَلَغَنِيَ الْكِبَرُ وَامْرَأَتِي عَاقِرٌ قَالَ كَذَلِكَ اللَّهُ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ﴾ [آل عِمران: 40] ﴿وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شَيْئًا﴾ [مريم: 19] (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4146 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
ابو مالک اور ابو صالح نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اور مرہ ہمدانی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، انہوں نے کہا: زکریا علیہ السلام نے اپنے رب سے خاموشی سے دعا کی ﴿دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ﴾ [سورة آل عمران: 38] اور عرض کیا: ﴿رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا وَلَمْ أَكُنْ بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا﴾ [سورة مريم: 4] ”اے میرے رب! میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور سر بڑھاپے کی وجہ سے بھڑک اٹھا ہے (سفید ہو گیا ہے)، اور اے میرے رب! میں تجھ سے مانگ کر کبھی محروم نہیں رہا۔“ ﴿وَإِنِّي خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِنْ وَرَائِي﴾ [سورة مريم: 5] ”اور مجھے اپنے پیچھے اپنے رشتہ داروں کا ڈر ہے۔“ («الموالي» سے مراد) عصبہ (قرابت دار) ہیں۔ ﴿وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا فَهَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا﴾ [سورة مريم: 5] ”اور میری بیوی بانجھ ہے، پس تو مجھے اپنے پاس سے ایک وارث عطا فرما۔“ ﴿يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ﴾ [سورة مريم: 6] ”جو میرا اور آل یعقوب کا وارث بنے۔“ یعنی وہ میری اور آل یعقوب کی نبوت کا وارث بنے۔ ﴿وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا﴾ [سورة مريم: 6] ”اور اے میرے رب! اسے پسندیدہ بنا۔“ اور ان کا یہ فرمان ﴿هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً﴾ یعنی بابرکت اولاد عطا فرما، ﴿إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ﴾ [سورة آل عمران: 38] ”بیشک تو ہی دعا سننے والا ہے۔“ اور انہوں نے کہا: ﴿رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَأَنْتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ﴾ [سورة الأنبياء: 89] ”اے میرے رب! مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو ہی سب سے بہتر وارث ہے۔“ ﴿فَنَادَتْهُ الْمَلَائِكَةُ﴾ ”پس انہیں فرشتوں نے آواز دی“ اس سے مراد جبریل علیہ السلام ہیں۔ ﴿وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي الْمِحْرَابِ أَنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكَ﴾ [سورة آل عمران: 39] ﴿بِغُلَامٍ اسْمُهُ يَحْيَى لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا﴾ [سورة مريم: 7] ”جب وہ محراب میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے کہ اللہ آپ کو یحییٰ نامی ایک لڑکے کی خوشخبری دیتا ہے، اس سے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی شخص نہیں بنایا۔“ یعنی ان سے پہلے کسی کا نام یحییٰ نہیں رکھا گیا۔ اور فرشتوں نے کہا: ﴿أَنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيَى مُصَدِّقًا بِكَلِمَةٍ مِنَ اللَّهِ﴾ ”بیشک اللہ آپ کو یحییٰ کی خوشخبری دیتا ہے جو اللہ کے ایک کلمے کی تصدیق کرنے والا ہوگا۔“ یعنی وہ عیسیٰ علیہ السلام کی تصدیق کریں گے۔ ﴿وَسَيِّدًا وَحَصُورًا﴾ [سورة آل عمران: 39] ”اور وہ سردار ہوگا اور عورتوں سے دور رہنے والا ہوگا۔“ اور «الحصور» سے مراد وہ شخص ہے جسے عورتوں کی حاجت (خواہش) نہ ہو۔ پس جب انہوں نے یہ آواز سنی تو شیطان ان کے پاس آیا اور کہنے لگا: ”اے زکریا! آپ نے جو آواز سنی ہے وہ اللہ کی طرف سے نہیں ہے، بلکہ وہ شیطان کی طرف سے ہے جس نے آپ سے مذاق کیا ہے، اور اگر یہ اللہ کی طرف سے ہوتی تو وہ آپ کی طرف اسی طرح وحی کرتا جس طرح دیگر معاملات میں آپ کی طرف وحی کرتا ہے۔“ تو وہ اسی جگہ شک میں پڑ گئے اور کہا: ﴿أَنَّى يَكُونُ لِي غُلَامٌ﴾ یعنی کہاں سے (میرے ہاں لڑکا ہوگا؟) ﴿وَقَدْ بَلَغَنِيَ الْكِبَرُ وَامْرَأَتِي عَاقِرٌ قَالَ كَذَلِكَ اللَّهُ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ﴾ [سورة آل عمران: 40] ”حالانکہ مجھے بڑھاپا پہنچ چکا ہے اور میری بیوی بانجھ ہے۔ فرمایا: اسی طرح اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔“ ﴿وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شَيْئًا﴾ [سورة مريم: 9] ”اور تحقیق میں نے اس سے پہلے آپ کو پیدا کیا حالانکہ آپ کچھ بھی نہ تھے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين / حدیث: 4191
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل أسباط بن نصر والسُّدِّي. أبو مالك: هو غزوان الغفاري، وأبو صالح: هو باذام مولى أم هانئ، ومُرّة الهَمْداني: هو ابن شراحيل.» [ترقيم الرساله 4191] [ترقيم الشركة 4168] [ترقيم العلميه 4146]
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن موسى القاضي ببُخاري، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا موسى بن إسماعيل، حدثنا جعفر بن سليمان الضُّبَعيّ، عن أبي عِمران الجَوْني، عن نَوف البِكاليّ، قال: دعا زكريا ربَّه، فقال: ﴿رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ﴾ [آل عِمران: 38] ﴿إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا﴾ الآيات [مريم: 4]، ثم قال: ﴿أَنَّى يَكُونُ لِي غُلَامٌ … وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا (8) قَالَ كَذَلِكَ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شَيْئًا (9) قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِي آيَةً﴾ أعلمُ أنك قد استجبْتَ ﴿قَالَ آيَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَاثَ لَيَالٍ سَوِيًّا﴾ قال: فخُتِم على لسانِه ثلاثةَ أيامٍ ولياليَهن وهو صحيحٌ لا يَتكلَّمُ ﴿فَخَرَجَ عَلَى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرَابِ فَأَوْحَى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا (11) يَايَحْيَى خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا (12)﴾ الآيات إلى ﴿يُبْعَثُ حَيًّا﴾ [مريم: 11 - 15] (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4147 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
نوف بکالی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: زکریا علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا کی اور کہا: ﴿رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ﴾ [سورة آل عمران: 38] ”اے میرے رب! مجھے اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد عطا فرما، بیشک تو ہی دعا سننے والا ہے۔“ ﴿إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا﴾ [سورة مريم: 4] ”بیشک میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور سر بڑھاپے کی وجہ سے بھڑک اٹھا ہے“ آگے تک آیات تلاوت کیں۔ پھر انہوں نے کہا: ﴿أَنَّى يَكُونُ لِي غُلَامٌ … وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا﴾ [سورة مريم: 8] ”میرے ہاں لڑکا کیسے ہو سکتا ہے؟ ... حالانکہ میں بڑھاپے کی انتہائی حد کو پہنچ چکا ہوں۔“ ﴿قَالَ كَذَلِكَ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شَيْئًا﴾ [سورة مريم: 9] ”فرمایا: اسی طرح ہوگا، آپ کے رب نے فرمایا ہے کہ یہ میرے لیے بہت آسان ہے، اور میں نے اس سے پہلے آپ کو پیدا کیا حالانکہ آپ کچھ بھی نہ تھے۔“ ﴿قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِي آيَةً﴾ [سورة مريم: 10] ”زکریا علیہ السلام نے عرض کیا: اے میرے رب! میرے لیے کوئی نشانی مقرر فرما دے۔“ یعنی جس سے میں جان لوں کہ تو نے میری دعا قبول فرما لی ہے۔ ﴿قَالَ آيَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَاثَ لَيَالٍ سَوِيًّا﴾ [سورة مريم: 10] ”فرمایا: آپ کی نشانی یہ ہے کہ آپ بھلے چنگے ہونے کے باوجود تین راتوں تک لوگوں سے بات نہیں کر سکیں گے۔“ نوف بکالی نے کہا: ”پس ان کی زبان پر تین دن اور ان کی راتوں تک مہر لگا دی گئی اور وہ بالکل تندرست ہونے کے باوجود بات نہیں کر سکتے تھے۔“ ﴿فَخَرَجَ عَلَى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرَابِ فَأَوْحَى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا﴾ [سورة مريم: 11] ”پھر وہ محراب سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے اور انہیں اشارے سے کہا کہ صبح و شام اللہ کی تسبیح بیان کرو۔“ ﴿يَايَحْيَى خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا﴾ [سورة مريم: 12] ”اے یحییٰ! کتاب کو مضبوطی سے تھام لو، اور ہم نے انہیں بچپن ہی میں حکمت عطا فرما دی تھی۔“ یہاں سے لے کر ﴿يُبْعَثُ حَيًّا﴾ [سورة مريم: 15] ”اور جس دن وہ زندہ اٹھائے جائیں گے۔“ تک آیات کی تلاوت کی۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين / حدیث: 4192
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «رجاله ثقات. أبو عمران الجَوْني: هو عبد الملك بن حبيب، ونوف البكالي: هو ابن فضالة الحِمْيَري ابن امرأة كعب الأحبار.» [ترقيم الرساله 4192] [ترقيم الشركة 4169] [ترقيم العلميه 4147]
حدثني محمد بن حَمْدُون الوَرّاق، حدثنا علي بن سعيد العَسْكري، حدثنا الفضل بن غانم، حدثنا سلمة بن الفضل، عن محمد بن إسحاق، قال كان زكريا وعِمران تزوَّجا أختَين، فكانت أم يحيى عند زكريا، وكانت أمُّ مريم عند عِمران، فهَلَك عِمران وأمُّ مريم حاملٌ بمريم، وهي جنينٌ في بطنها، وكانت فيما يَزعُمون قد أَمسكَ اللهُ عنها الولدَ حتى أيِسَتْ وكانوا أهلَ بيتٍ مِن الله بمكانٍ (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4148 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
محمد بن اسحاق سے روایت ہے، انہوں نے کہا: زکریا اور عمران علیہما السلام نے دو بہنوں سے شادی کی تھی۔ یحییٰ علیہ السلام کی والدہ زکریا علیہ السلام کے نکاح میں تھیں، اور مریم علیہا السلام کی والدہ عمران علیہ السلام کے نکاح میں تھیں۔ پھر عمران انتقال کر گئے اور مریم کی والدہ مریم سے حاملہ تھیں، اور وہ ان کے پیٹ میں جنین (بچہ) تھیں۔ لوگوں کے گمان کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ان سے اولاد کو روکے رکھا تھا یہاں تک کہ وہ مایوس ہو گئی تھیں، اور وہ اللہ کے ہاں ایک بلند مقام و مرتبہ رکھنے والا گھرانہ تھا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين / حدیث: 4193
درجۂ حدیث محدثین: رجاله لا بأ
تخریج حدیث «رجاله لا بأس بهم غير الفضل بن غانم فهو ضعيف لكنه قد توبع.» [ترقيم الرساله 4193] [ترقيم الشركة 4170] [ترقيم العلميه 4148]
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا عفّان وأبو سلمة، قالا: حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن حبيبِ بن الشَّهيد ويونس بن عُبيد وحُميد، عن الحسن، عن النبي ﷺ. وعليِّ بن زيد، عن يوسف بن مِهْران، عن ابن عبّاس، عن النبي ﷺ قال: "ما مِن آدميٍّ إلّا وقد أخطأَ أو هَمَّ بخَطيئةٍ أو عَمِلَها، إلّا أن يكونَ يحيى بنُ زكريا، لم يَهُمَّ بخطيئةٍ ولم يَعْمَلْها" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4149 - إسناده جيد
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کوئی بھی انسان ایسا نہیں مگر اس نے کوئی غلطی کی ہو، یا کسی گناہ کا ارادہ کیا ہو، یا اسے کر گزرا ہو، سوائے یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کے، کہ انہوں نے نہ تو کسی گناہ کا ارادہ کیا اور نہ ہی کوئی گناہ کیا۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين / حدیث: 4194
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره، وطريق الحسن - وهو البصري - رجاله ثقات، لكنه مرسل، وأما طريق علي ابن زيد - وهو ابن جُدعان - فضعيف لضعفه، لكن له ما يشهد له إن شاء الله. وقد جوّد إسنادَه الذهبي في "تلخيصه"، فلعله بمجموع إسنادَيه.» [ترقيم الرساله 4194] [ترقيم الشركة 4171] [ترقيم العلميه 4149]