المستدرك على الصحيحين
كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين— سابقہ انبیاء و مرسلین کے واقعات
بِشَارَةُ وِلَادَةِ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا عَلَيْهِمَا السَّلَامُ باب: حضرت یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کی ولادت کی بشارت
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن موسى القاضي ببُخاري، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا موسى بن إسماعيل، حدثنا جعفر بن سليمان الضُّبَعيّ، عن أبي عِمران الجَوْني، عن نَوف البِكاليّ، قال: دعا زكريا ربَّه، فقال: ﴿رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ﴾ [آل عِمران: 38] ﴿إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا﴾ الآيات [مريم: 4]، ثم قال: ﴿أَنَّى يَكُونُ لِي غُلَامٌ … وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا (8) قَالَ كَذَلِكَ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شَيْئًا (9) قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِي آيَةً﴾ أعلمُ أنك قد استجبْتَ ﴿قَالَ آيَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَاثَ لَيَالٍ سَوِيًّا﴾ قال: فخُتِم على لسانِه ثلاثةَ أيامٍ ولياليَهن وهو صحيحٌ لا يَتكلَّمُ ﴿فَخَرَجَ عَلَى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرَابِ فَأَوْحَى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا (11) يَايَحْيَى خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا (12)﴾ الآيات إلى ﴿يُبْعَثُ حَيًّا﴾ [مريم: 11 - 15] (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4147 - سكت عنه الذهبي في التلخيصنوف بکالی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: زکریا علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا کی اور کہا: ﴿رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ﴾ [سورة آل عمران: 38] ”اے میرے رب! مجھے اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد عطا فرما، بیشک تو ہی دعا سننے والا ہے۔“ ﴿إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا﴾ [سورة مريم: 4] ”بیشک میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور سر بڑھاپے کی وجہ سے بھڑک اٹھا ہے“ آگے تک آیات تلاوت کیں۔ پھر انہوں نے کہا: ﴿أَنَّى يَكُونُ لِي غُلَامٌ … وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا﴾ [سورة مريم: 8] ”میرے ہاں لڑکا کیسے ہو سکتا ہے؟ ... حالانکہ میں بڑھاپے کی انتہائی حد کو پہنچ چکا ہوں۔“ ﴿قَالَ كَذَلِكَ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شَيْئًا﴾ [سورة مريم: 9] ”فرمایا: اسی طرح ہوگا، آپ کے رب نے فرمایا ہے کہ یہ میرے لیے بہت آسان ہے، اور میں نے اس سے پہلے آپ کو پیدا کیا حالانکہ آپ کچھ بھی نہ تھے۔“ ﴿قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِي آيَةً﴾ [سورة مريم: 10] ”زکریا علیہ السلام نے عرض کیا: اے میرے رب! میرے لیے کوئی نشانی مقرر فرما دے۔“ یعنی جس سے میں جان لوں کہ تو نے میری دعا قبول فرما لی ہے۔ ﴿قَالَ آيَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَاثَ لَيَالٍ سَوِيًّا﴾ [سورة مريم: 10] ”فرمایا: آپ کی نشانی یہ ہے کہ آپ بھلے چنگے ہونے کے باوجود تین راتوں تک لوگوں سے بات نہیں کر سکیں گے۔“ نوف بکالی نے کہا: ”پس ان کی زبان پر تین دن اور ان کی راتوں تک مہر لگا دی گئی اور وہ بالکل تندرست ہونے کے باوجود بات نہیں کر سکتے تھے۔“ ﴿فَخَرَجَ عَلَى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرَابِ فَأَوْحَى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا﴾ [سورة مريم: 11] ”پھر وہ محراب سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے اور انہیں اشارے سے کہا کہ صبح و شام اللہ کی تسبیح بیان کرو۔“ ﴿يَايَحْيَى خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا﴾ [سورة مريم: 12] ”اے یحییٰ! کتاب کو مضبوطی سے تھام لو، اور ہم نے انہیں بچپن ہی میں حکمت عطا فرما دی تھی۔“ یہاں سے لے کر ﴿يُبْعَثُ حَيًّا﴾ [سورة مريم: 15] ”اور جس دن وہ زندہ اٹھائے جائیں گے۔“ تک آیات کی تلاوت کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کے رجال ثقہ ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: ابو عمران جونی سے مراد عبد الملک بن حبیب ہیں اور نوف بکالی سے مراد نوف بن فضالہ حمیری ہیں جو کعب الاحبار کی زوجہ کے بیٹے ہیں۔