المستدرك على الصحيحين
كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين— سابقہ انبیاء و مرسلین کے واقعات
ذِكْرُ نَبِيِّ اللَّهِ يُونُسَ بْنِ مَتَّى - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - وَهُوَ الَّذِي سَمَّاهُ اللَّهُ ذَا النُّونِ باب: اللہ کے نبی حضرت یونس بن متیٰ علیہ السلام کا ذکر، جنہیں اللہ نے ذوالنون فرمایا
حدیث نمبر: 4168
حدثنا علي بن حَمْشاذَ، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا عفّان بن مُسلِم وأبو سَلَمة، قالا: حدثنا حمّاد بن سَلَمة، أخبرنا داود بن أبي هند، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس: أنَّ رسول الله ﷺ مَرَّ على ثَنِيَّةٍ، فقال: "ما هذه؟ " قالوا: هذه ثَنِيّةُ كذا وكذا، قال: "كأني أنظُرُ إلى يُونسَ بن متَّى على ناقةٍ خِطامُها لِيفٌ، وعليه جُبّةٌ من صُوف، وهو يقول: لَبَّيكَ اللهم لَبَّيك" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4123 - على شرط مسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک پہاڑی گھاٹی سے گزرے تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کون سی گھاٹی ہے؟“ صحابہ کرام نے عرض کیا: ”یہ فلاں فلاں گھاٹی ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”گویا کہ میں یونس بن متی (علیہ السلام) کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ ایک اونٹنی پر سوار ہیں جس کی نکیل کھجور کی چھال کی ہے، اور ان پر اون کا ایک چغہ (جبہ) ہے، اور وہ کہہ رہے ہیں: «لَبَّيْكَ اللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ» ”حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) صحيح، لكن من رواية داود بن أبي هند عن أبي العالية - وهو رُفَيع بن مهران الرِّيَاحي - عن ابن عبّاس والظاهر أنَّ الوهم فيه من محمد بن غالب - وهو تمتام - فإنه كان له بعض الأوهام، فقد روى هذا الحديثَ عن عفّان زهير بنُ حرب عند أبي يعلى (2542) وعنه ابن حبان (6219)، وبشرُ بنُ موسى الأسدي عند أبي نعيم في "الحلية" 2/ 223 و 3/ 96، فقالا: عن أبي العالية، عن ابن عبّاس .. وقال أبو نُعيم: وكذلك رواه عن عفان أحمدُ بن حنبل وأبو بكر بن أبي شَيْبة والأئمة.
درجۂ حدیث: یہ صحیح ہے، لیکن داؤد بن ابی ہند کی روایت سے جو ابو العالیہ (رفیع بن مہران الریاحی) سے اور وہ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: ظاہر یہ ہے کہ اس میں وہم "محمد بن غالب" (تمتام) کی جانب سے ہے، کیونکہ انہیں کچھ اوہام لاحق ہو جاتے تھے۔ چنانچہ اسی حدیث کو عفان سے زہیر بن حرب نے (ابو یعلیٰ 2542 اور ابن حبان 6219 میں) اور بشر بن موسیٰ الاسدی نے (ابو نعیم کی "الحلیہ" 2/ 223 اور 3/ 96 میں) روایت کیا ہے تو ان دونوں نے کہا: "عن ابی العالیہ، عن ابن عباس..."۔ ابو نعیم نے کہا: اسی طرح اسے عفان سے احمد بن حنبل، ابو بکر بن ابی شیبہ اور دیگر ائمہ نے بھی روایت کیا ہے۔
وكذلك رواه الحسن بن موسى الأشيب كما تقدم برقم (3352)، والحجاج بن منهال عند الطبراني (12756)، كلاهما عن حمّاد بن سلمة.
حوالہ / مصدر: اسی طرح اسے حسن بن موسیٰ الاشیب نے (جیسا کہ نمبر 3352 پر گزرا) اور حجاج بن منہال نے (طبرانی 12756 میں) روایت کیا ہے، یہ دونوں حماد بن سلمہ سے روایت کرتے ہیں۔
وكذلك رواه عن داود بن أبي هند جماعةٌ كما تقدم بيانه برقم (3352)، فهذا هو المحفوظ أنه عن أبي العالية عن ابن عبّاس.
فنی نکتہ / علّت: اسی طرح اسے داؤد بن ابی ہند سے ایک جماعت نے روایت کیا ہے جیسا کہ نمبر (3352) میں بیان گزر چکا، لہٰذا یہی "محفوظ" ہے کہ یہ روایت "ابو العالیہ عن ابن عباس" ہے۔
(2) بل قد أخرجه مسلم (166) من طريقين عن داود بن أبي هند، عن أبي العالية، عن ابن عبّاس.
حوالہ / مصدر: بلکہ اسے مسلم (166) نے داؤد بن ابی ہند سے دو طریقوں سے روایت کیا ہے، وہ ابو العالیہ سے اور وہ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں۔
درجۂ حدیث: یہ صحیح ہے، لیکن داؤد بن ابی ہند کی روایت سے جو ابو العالیہ (رفیع بن مہران الریاحی) سے اور وہ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: ظاہر یہ ہے کہ اس میں وہم "محمد بن غالب" (تمتام) کی جانب سے ہے، کیونکہ انہیں کچھ اوہام لاحق ہو جاتے تھے۔ چنانچہ اسی حدیث کو عفان سے زہیر بن حرب نے (ابو یعلیٰ 2542 اور ابن حبان 6219 میں) اور بشر بن موسیٰ الاسدی نے (ابو نعیم کی "الحلیہ" 2/ 223 اور 3/ 96 میں) روایت کیا ہے تو ان دونوں نے کہا: "عن ابی العالیہ، عن ابن عباس..."۔ ابو نعیم نے کہا: اسی طرح اسے عفان سے احمد بن حنبل، ابو بکر بن ابی شیبہ اور دیگر ائمہ نے بھی روایت کیا ہے۔
وكذلك رواه الحسن بن موسى الأشيب كما تقدم برقم (3352)، والحجاج بن منهال عند الطبراني (12756)، كلاهما عن حمّاد بن سلمة.
حوالہ / مصدر: اسی طرح اسے حسن بن موسیٰ الاشیب نے (جیسا کہ نمبر 3352 پر گزرا) اور حجاج بن منہال نے (طبرانی 12756 میں) روایت کیا ہے، یہ دونوں حماد بن سلمہ سے روایت کرتے ہیں۔
وكذلك رواه عن داود بن أبي هند جماعةٌ كما تقدم بيانه برقم (3352)، فهذا هو المحفوظ أنه عن أبي العالية عن ابن عبّاس.
فنی نکتہ / علّت: اسی طرح اسے داؤد بن ابی ہند سے ایک جماعت نے روایت کیا ہے جیسا کہ نمبر (3352) میں بیان گزر چکا، لہٰذا یہی "محفوظ" ہے کہ یہ روایت "ابو العالیہ عن ابن عباس" ہے۔
(2) بل قد أخرجه مسلم (166) من طريقين عن داود بن أبي هند، عن أبي العالية، عن ابن عبّاس.
حوالہ / مصدر: بلکہ اسے مسلم (166) نے داؤد بن ابی ہند سے دو طریقوں سے روایت کیا ہے، وہ ابو العالیہ سے اور وہ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4168 سے ماخوذ ہے۔