حدیث نمبر: 4164
أخبرني أبو سعيد الأحمسي، حدثنا الحسين بن حميد بن الربيع، حدثنا مروان بن جعفر، حدثني حُميد بن مُعاذ، حدثني مُدرِك بن عبد الرحمن، حدثنا الحسن بن ذَكْوان، عن الحسن، عن سَمُرة، عن كعب، قال: ثم كان إلياسُ نبيُّ الله صاحبَ جِبالٍ وبَرِّيّة، يَخلُو فيها يَعبُدُ ربَّه، وكان ضَخْمَ الرأس خَمِيصَ البطنِ، دَقِيقَ الساقَين، وكان في صَدْره شامةٌ حمراءُ، وإنما رَفَعَه الله إلى أرض (1) الشام، ولم يَصْعَد به إلى السماء، فأَورَثَ اليَسَعَ مِن بعدِه النُّبوةَ (2). ذكر نبيِّ الله يونس بن مَتّى ﵇، وهو الذي سَمّاه اللهُ ذَا النُّون
حافظ طلحہ بابر

کعب رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”پھر اللہ کے نبی الیاس علیہ السلام ہوئے جو پہاڑوں اور بیابانوں میں رہنے والے تھے، وہ وہاں تنہائی میں اپنے رب کی عبادت کرتے تھے۔ ان کا سر بڑا، پیٹ اندر کو دھنسا ہوا اور پنڈلیاں باریک تھیں، اور ان کے سینے پر ایک سرخ تل تھا۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ملک شام کی طرف اٹھا لیا تھا اور انہیں آسمان کی طرف نہیں اٹھایا گیا تھا، چنانچہ انہوں نے اپنے بعد نبوت کا وارث حضرت الیسع علیہ السلام کو بنایا۔“
اللہ کے نبی حضرت یونس بن متی صلوات اللہ علیہ کا تذکرہ، اور یہی ہیں جن کا نام اللہ تعالیٰ نے ذوالنون رکھا ہے

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين / حدیث: 4164
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا، وقد تقدم الكلام على رجاله برقم (4059).» [ترقيم الرساله 4164] [ترقيم الشركة 4141]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) المثبت من (ب) ونسخة على هامش (ز)، ومن المطبوع، ومن "الدر المنثور" للسيوطي 7/ 118، وفي (ز) و (ص) و (ع): رفعه الله بأرض الشام، والمثبت أوجَهُ وأوضح.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ب)، نسخہ (ز) کے حاشیے، مطبوعہ نسخے اور سیوطی کی "الدر المنثور" 7/ 118 سے جو متن ثابت کیا گیا ہے وہ درست ہے۔ جبکہ نسخہ (ز)، (ص) اور (ع) میں "رفعه الله بأرض الشام" (اللہ نے اسے سرزمین شام میں اٹھایا) کے الفاظ ہیں، لیکن جو ہم نے ثابت کیا ہے وہ زیادہ راجح اور واضح ہے۔
(2) إسناده ضعيف جدًّا، وقد تقدم الكلام على رجاله برقم (4059).
درجۂ حدیث: اس کی سند سخت ضعیف (ضعیف جداً) ہے، اور اس کے رجال پر کلام نمبر (4059) کے تحت گزر چکا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4164 سے ماخوذ ہے۔