حدیث نمبر: 4166
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن سليمان بن أبي داود البُرُلُّسي، حدثنا محمد بن عُبيد الطَّنَافِسي، حدثنا يونس بن أبي إسحاق السَّبِيعي، حدثني إبراهيم بن محمد بن سعد بن أبي وقّاص، حدثني والدي محمد، عن أبيه سعد قال: قال النبي ﷺ: "دعوةُ ذي النُّون التي دعا بها في بطنِ الحُوت: ﴿لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ [الأنبياء: 87] لم يَدْعُ مسلمٌ بها في كُرْبةٍ إلَّا استجاب اللهُ له" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4121 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ذوالنون (یونس علیہ السلام) کی وہ دعا جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں کی تھی: ﴿لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ ”تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی ظالموں میں سے تھا“ [سورة الأنبياء: 87]، کوئی بھی مسلمان شخص کسی مصیبت یا پریشانی میں یہ دعا نہیں مانگتا مگر اللہ تعالیٰ اس کی دعا ضرور قبول فرماتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين / حدیث: 4166
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل يونس بن أبي إسحاق، وقد روي من وجه آخر حسن عن سعد بن أبي وقاص سيأتي برقم (4172).» [ترقيم الرساله 4166] [ترقيم الشركة 4143] [ترقيم العلميه 4121]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل يونس بن أبي إسحاق، وقد روي من وجه آخر حسن عن سعد بن أبي وقاص سيأتي برقم (4172).
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور اس کی سند حسن ہے، یونس بن ابی اسحاق کی وجہ سے۔
متابعات و شواہد: یہ حدیث سعد بن ابی وقاص سے ایک اور "حسن" طریق سے بھی مروی ہے جو عنقریب نمبر (4172) پر آئے گی۔
وقد تقدم برقم (1883) من طريق محمد بن يوسف الفريابي عن يونس بن أبي إسحاق.
تفصیلِ روایت: یہ روایت پہلے نمبر (1883) پر محمد بن یوسف الفریابی کے طریق سے (جو یونس بن ابی اسحاق سے روایت کرتے ہیں) گزر چکی ہے۔
وبرقم (1885) من طريق محمد بن مهاجر القُرشي عن إبراهيم بن محمد.
تفصیلِ روایت: اور نمبر (1885) پر محمد بن مہاجر القرشی کے طریق سے (جو ابراہیم بن محمد سے روایت کرتے ہیں) بھی گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4166 سے ماخوذ ہے۔