کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا لوط علیہ السلام کا ذکر — سیدنا لوط علیہ السلام کا نسب
فأخبرنا الحسن بن محمد الإسفراييني، حدثنا أبو الحسن بن البراء، حدثنا عبد المنعم، عن أبيه، عن وهب بن منبه، قال: لما توفيت سارة تزوج إبراهيم امرأة يقال لها: حجورا، فولدت له سبعة نفرٍ: نافسُ ومدين وكيسان، ولوط وسرخ وأميم ونغشان، وذكر أيضًا في هذا الكتاب: وَهَب مدين درجات (1) لإبراهيم، وأن لوطًا كان منهم (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4051 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4051 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
وہب بن منبہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ”جب سیدہ سارہ علیہا السلام کی وفات ہو گئی تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے ایک عورت سے شادی کی جس کا نام حجورا تھا۔ اس سے ان کے سات بیٹے پیدا ہوئے: نافس، مدین، کیسان، لوط، سرخ، امیم اور نغشان۔“ اور انہوں نے اس کتاب میں یہ بھی ذکر کیا ہے کہ: ”اللہ نے مدین کو ابراہیم علیہ السلام کے لیے درجات عطا کیے، اور لوط علیہ السلام بھی انہی میں سے تھے۔“
وأخبرنا محمد بن إسحاق الصَّفّار، حدثنا أحمد بن نصر، حدثنا عمرو بن طلحة القناد، حدثنا أسباط بن نصر، عن السُّدِّي، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال: ولوطٌ النبي صلى الله عليه كان ابن أخي إبراهيم الخليل ﵉ (3). هذا إسناد صحيح. وفي كتاب إسماعيل بن عبد الكريم عن عبد الصمد بن مَعقِل، قال: سمعت وهب بن مُنبِّه يقول: خرج إبراهيم بامرأته سارة ومعها أخوها لوط إلى أرض الشام (4). وهو قول ثالث.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4052 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4052 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی لوط علیہ السلام، خلیل اللہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔“
یہ سند صحیح ہے۔ اور اسماعیل بن عبدالکریم کی کتاب میں عبدالصمد بن معقل سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے وہب بن منبہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”سیدنا ابراہیم علیہ السلام اپنی زوجہ سارہ اور ان کے بھائی لوط کو ساتھ لے کر شام کی سرزمین کی طرف نکلے۔“
اور یہ (لوط علیہ السلام کے بارے میں) تیسرا قول ہے۔
یہ سند صحیح ہے۔ اور اسماعیل بن عبدالکریم کی کتاب میں عبدالصمد بن معقل سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے وہب بن منبہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”سیدنا ابراہیم علیہ السلام اپنی زوجہ سارہ اور ان کے بھائی لوط کو ساتھ لے کر شام کی سرزمین کی طرف نکلے۔“
اور یہ (لوط علیہ السلام کے بارے میں) تیسرا قول ہے۔
حدثنا أبو الحسن بن شَبَّوَيه الرئيس، حدثنا [يحيى] (1) بن ساسَويه، حدثنا محمد بن حُميد، حدثنا سلمة بن الفضل، عن محمد بن إسحاق، قال: ولوطٌ النبي ﵇ هو لوط بن فاران (2) بن آزر بن ناحُور ابن أخي إبراهيم خليل الرحمن، والمؤتفكة هم قوم لوطٍ (3).
حافظ طلحہ بابر
محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”نبی لوط علیہ السلام دراصل لوط بن فاران بن آزر بن ناحور ہیں، اور وہ خلیل الرحمٰن ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ اور مؤتفکہ (جن بستیوں کو الٹ دیا گیا تھا) وہ قومِ لوط ہی تھی۔“