کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا ذکر — انبیاء کے درمیان زمانوں کا بیان
حدثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بُطّة الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم التّيْمي (3)، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر الواقدي، حدثني شُرَيح بن يزيد، عن إبراهيم بن محمد بن زياد، عن أبيه، عن عبد الله بن بُسْر، قال: وَضَعَ رسولُ الله ﷺ يده على رأسي، فقال: "هذا الغلامُ يعيشُ قَرْنًا". قال: فعاش مئة سنة (1). قال الواقدي: لقول الله ﷿: ﴿وَقُرُونًا بَيْنَ ذَلِكَ كَثِيرًا﴾ [الفرقان:38]، فكان بين نُوحٍ وآدمَ عشرة قرون، وبينه وبين إبراهيم عشرة قُرون، فوُلِد إبراهيم خليل الرحمن على رأس ألفي سنة من خَلْق آدم (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4016 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4016 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنا دستِ مبارک میرے سر پر رکھا اور فرمایا: ”یہ لڑکا ایک قرن (صدی) تک زندہ رہے گا۔“ راوی کہتے ہیں کہ پس وہ سو سال تک زندہ رہے۔ واقدی نے کہا: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ﴿وَقُرُونًا بَيْنَ ذَلِكَ كَثِيرًا﴾ ”اور اس کے درمیان بہت سی قومیں (یا صدیاں گزریں)۔“ [سورة الفرقان: 38] کے مطابق نوح اور آدم علیہما السلام کے درمیان دس صدیوں کا فاصلہ تھا، اور نوح اور ابراہیم علیہما السلام کے درمیان بھی دس صدیوں کا فاصلہ تھا۔ پس خلیل الرحمٰن ابراہیم علیہ السلام کی پیدائش آدم علیہ السلام کی تخلیق کے دو ہزار سال بعد ہوئی۔
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العنبري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جرير، عن عُمارة بن القعقاع، عن أبي زرعة، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ: "فيقولون: يا إبراهيم، أنتَ خَليل الرحمن، قد سمع بخُلّتِكما أهل السماوات وأهل الأرض" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4017 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4017 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگ (قیامت کے دن، شفاعت کے لیے) کہیں گے: اے ابراہیم! آپ خلیل الرحمٰن ہیں، آپ کی خلت (اللہ سے گہری دوستی) کے بارے میں آسمان والوں اور زمین والوں نے سن رکھا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حدثنا هلال بن العلاء الرقي، حدثنا عبد الله بن جعفر، حدثنا عبيد الله بن عمرو، عن زيد بن أبي أُنيسة، عن عمرو بن مرة، عن عبد الله بن الحارث، قال: حدثنا جُندب، أنه سمع النبي ﷺ يقول قبل أن يُتوفّى: "إِنَّ الله قد اتَّخَذني خليلًا [كما اتَّخَذَ إبراهيم خليلًا] (2) " (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4018 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4018 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو وفات سے قبل یہ فرماتے ہوئے سنا: ”بیشک اللہ نے مجھے اپنا خلیل (گہرا دوست) بنا لیا ہے جیسا کہ اس نے ابراہیم (علیہ السلام) کو خلیل بنایا تھا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه، حدثنا أحمد بن بشر المَرثَدِي، يحيى بن معين، حدثنا هشام بن يوسف، عن معمر، عن أيوب، عن عكرمة، عن ابن عباس: أن النبي ﷺ لما رأى الصور في البيت لم يدخُل حتى أُمر بها فنُحِّيَت، ورأى إبراهيم وإسماعيل بأيديهما الأزلام، فقال: "قاتلهم الله، واللهِ إِنِ اسْتَقسَما بالأزلام قط" (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4019 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4019 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جب بیت اللہ میں تصویریں دیکھیں تو آپ اس وقت تک اندر داخل نہیں ہوئے جب تک ان کے بارے میں حکم نہ دے دیا، پس وہ مٹا دی گئیں۔ آپ ﷺ نے (وہاں) ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کی تصویریں دیکھیں جن کے ہاتھوں میں قرعہ اندازی کے تیر تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ انہیں (مشرکین کو) غارت کرے، اللہ کی قسم! ان دونوں نے کبھی ان تیروں کے ذریعے قسمت کا حال معلوم نہیں کیا۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے۔