حدَّثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدَّثنا العبَّاس بن محمد الدُّوري، حدَّثنا وهب بن جَرير، حدَّثنا أبي، سمعتُ يحيى بن أيوب يحدِّث عن يزيد بن أبي حَبيب، عن أسلمَ أبي عِمْران التُّجِيبي، عن عُقْبة بن عامر قال: قلتُ: يا رسول الله، أقرأ من سورة يوسفَ وسورة هودٍ، قال: "يا عقبهُ، اقرأ بـ ﴿أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾، فإنك لن تقرأ بسورةٍ أحبَّ إلى الله، وأبلغَ عندَه منها، فإنِ استطعتَ أن لا تَفُوتَك فافعَلْ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3988 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3988 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا میں سورہ یوسف اور سورہ ہود پڑھوں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عقبہ! تم ﴿أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] پڑھا کرو، کیونکہ تم کوئی ایسی سورت نہیں پڑھ سکتے جو اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ محبوب اور زیادہ اثر رکھنے والی ہو۔ پس اگر تم سے ہو سکے کہ یہ تم سے نہ چھوٹے تو ایسا ہی کرو۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثنا أبو جعفر أحمد بن عُبيد بن إبراهيم الحافظ بهَمَذان، حدَّثنا إبراهيم بن الحسين، حدَّثنا آدم بن أبي إياس، حدَّثنا ابن أبي ذِئْب، عن خاله الحارث بن عبد الرحمن، عن أبي سَلَمة، عن عائشة: أنَّ رسول الله ﷺ أَخَذَ بيدِها فأشار بها إلى القمر، فقال: "استَعيذِي بالله من شرِّ هذا، فإنه الغاسقُ إِذا وَقَبَ" (2). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3989 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3989 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کا ہاتھ پکڑا اور چاند کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ یہی اندھیرا کرنے والا (چاند) ہے جب وہ چھپ جائے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔