کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: تفسیر سورہ الکوثر - حوضِ کوثر کی صفات کا تذکرہ
حدَّثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حَمْشَاذَ العَدْل، وأحمد بن يعقوب الثَّقفي وعَمرو بن محمد بن منصور العَدْلُ الخَتَنُ (3)، قالوا: حدَّثنا عمر بن حفص السَّدُوسي، حدَّثنا عاصم بن علي، حدَّثنا أبو أُوَيس، عن الزُّهْري، عن أخيه عبد الله بن مُسلم بن شِهاب، عن أنس بن مالك قال: سُئِلَ رسولُ الله ﷺ عن الكَوثَر، قال: "هو نهرٌ أعطانيه الله في الجنة: ترابُها (1) مِسكٌ أبيضُ من اللبَن، وأحلى من العَسَل، يَرِدُه طائرٌ (1) أعناقُها مثلُ أعناق الجُزُر" فقال أبو بكر: يا رسول الله، إنها لناعمةٌ، فقال: "آكِلُها أنعمُ منها" (2). قد أخرج مسلم هذا الحديث من حديث عبد الواحد بن زياد عن المختار بن فُلفُل عن أنس: لما نَزَلَت ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ﴾ (3)، أتمَّ وأطولَ، لكني أخرجتُه في أفراد عاصم ابن علي فإنَّ أبا أُويسٍ ثقة! ولا نحفظ للزُّهريِّ عن أخيه حديثًا مسندًا غيرَ هذا، والمشهور هذا من حديث محمد بن عبد الله بن مُسلِم عن أبيه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3978 - أخرجه مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ سے کوثر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایک نہر ہے جو اللہ نے مجھے جنت میں عطا فرمائی ہے، اس کی مٹی کستوری ہے، وہ دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھی ہے۔ اس پر ایسے پرندے آتے ہیں جن کی گردنیں اونٹوں کی گردنوں جیسی ہوں گی۔“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ تو بڑی نرم و نازک ہوں گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں کھانے والے ان سے بھی زیادہ نرم و نازک ہوں گے۔“
امام مسلم نے یہ حدیث عبدالواحد بن زیاد سے، انہوں نے مختار بن فلفل سے، انہوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے اس وقت کی روایت سے بیان کی ہے جب ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ﴾ [سورة الكوثر: 1] نازل ہوئی، جو زیادہ مکمل اور طویل ہے، لیکن میں نے اسے عاصم بن علی کے تفردات میں نکالا ہے کیونکہ ابو اویس ثقہ ہیں! اور ہم زہری سے ان کے بھائی کے حوالے سے اس کے علاوہ کوئی مسند حدیث محفوظ نہیں پاتے، اور یہ محمد بن عبداللہ بن مسلم کی ان کے والد سے مروی حدیث کے طور پر مشہور ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 4022
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل أبي أُويس - وهو عبد الله بن عبد الله بن أُويس الأصبحي - وقد توبع، وعاصم بن علي صدوق حسن الحديث، وباقي رجاله ثقات. الزهري: هو محمد بن مسلم بن عبيد الله بن عبد الله بن شهاب القرشي الزهري.» [ترقيم الرساله 4022] [ترقيم الشركة 4000] [ترقيم العلميه 3978]
أخبرني إبراهيم بن عِصْمةَ بن إبراهيم العَدْل، حدَّثنا أبي، حدَّثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا هُشَيم، أخبرنا أبو بِشْر، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس: ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾ قال: الكوثرُ: الخيرُ الكثير الذي أعطاه الله إياه. قال أبو بِشْر: فقلتُ لسعيد: إنَّ ناسًا يَزعُمون أنه نهرٌ في الجنة، فقال: والنهرُ من الخير الكثير (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! فأما قولُه ﷿: ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾، فقد اختلف الصحابةُ في تأويلها، وأحسنُها ما رُوي عن أمير المؤمنين عليّ بن أبي طالب في روايتين: الأولى منهما:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾ [سورة الكوثر: 1] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”الکوثر سے مراد وہ خیر کثیر (بہت زیادہ بھلائی) ہے جو اللہ نے آپ ﷺ کو عطا فرمائی ہے۔“ ابو بشر کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر سے کہا: لوگ تو یہ گمان کرتے ہیں کہ یہ جنت کی ایک نہر ہے۔ تو انہوں نے فرمایا: ”وہ نہر بھی اسی خیر کثیر کا حصہ ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾ [سورة الكوثر: 2] کے متعلق صحابہ کرام نے اس کی تاویل میں اختلاف کیا ہے، اور ان میں سب سے بہتر وہ ہے جو امیر المومنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے دو روایات میں مروی ہے۔ ان میں سے پہلی روایت یہ ہے:
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 4023
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،يحيى بن يحيى: هو النيسابوري، وأبو بشر: هو جعفر بن أبي وحشية.» [ترقيم الرساله 4023] [ترقيم الشركة 4001]