حدیث نمبر: 4023
أخبرني إبراهيم بن عِصْمةَ بن إبراهيم العَدْل، حدَّثنا أبي، حدَّثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا هُشَيم، أخبرنا أبو بِشْر، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس: ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾ قال: الكوثرُ: الخيرُ الكثير الذي أعطاه الله إياه. قال أبو بِشْر: فقلتُ لسعيد: إنَّ ناسًا يَزعُمون أنه نهرٌ في الجنة، فقال: والنهرُ من الخير الكثير (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! فأما قولُه ﷿: ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾، فقد اختلف الصحابةُ في تأويلها، وأحسنُها ما رُوي عن أمير المؤمنين عليّ بن أبي طالب في روايتين: الأولى منهما:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾ [سورة الكوثر: 1] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”الکوثر سے مراد وہ خیر کثیر (بہت زیادہ بھلائی) ہے جو اللہ نے آپ ﷺ کو عطا فرمائی ہے۔“ ابو بشر کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر سے کہا: لوگ تو یہ گمان کرتے ہیں کہ یہ جنت کی ایک نہر ہے۔ تو انہوں نے فرمایا: ”وہ نہر بھی اسی خیر کثیر کا حصہ ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾ [سورة الكوثر: 2] کے متعلق صحابہ کرام نے اس کی تاویل میں اختلاف کیا ہے، اور ان میں سب سے بہتر وہ ہے جو امیر المومنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے دو روایات میں مروی ہے۔ ان میں سے پہلی روایت یہ ہے:

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 4023
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،يحيى بن يحيى: هو النيسابوري، وأبو بشر: هو جعفر بن أبي وحشية.» [ترقيم الرساله 4023] [ترقيم الشركة 4001]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. يحيى بن يحيى: هو النيسابوري، وأبو بشر: هو جعفر بن أبي وحشية.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ یحییٰ بن یحییٰ سے مراد "نیشاپوری" اور ابو بشر سے مراد "جعفر بن ابی وحشیہ" ہیں۔
وأخرجه البخاري (4966) و (6578)، والنسائي (11640) من طرق عن هشيم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بخاری (4966، 6578) اور نسائی (11640) نے ہشیم سے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
فنی نکتہ / علّت: لہٰذا حاکم کا اسے مستدرک میں لانا ان کا "ذہول" ہے۔
وانظر ما سيأتي برقم (6387).
حوالہ / مصدر: اور جو آگے نمبر (6387) پر آئے گا اسے دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4023 سے ماخوذ ہے۔