أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدَّثنا أحمد بن مِهْران، حدَّثنا أبو نُعيم، حدَّثنا سفيان، عن حَبيب بن أبي ثابت، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: الماعونُ: العارِيَّة (1). صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3976 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3976 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”(سورۃ الماعون میں) «الماعون» سے مراد عاریتاً (عارضی استعمال کے لیے مانگ کر) لی جانے والی چیزیں ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني علي بن عيسى، حدَّثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدَّثنا ابن أبي عمر، حدَّثنا سفيان، عن ابن أبي نَجِيحٍ، عن مجاهدٍ، عن عليّ: ﴿وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ﴾ قال: هي الزكاةُ المفروضةُ، يُراؤون بصلواتهم ويَمنعُون زكاتَهم (2). هذا إسناد صحيح مُرسَل، فإنَّ مجاهدًا لم يَسمَعْ من علي. [
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3977 - منقطع
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3977 - منقطع
حافظ طلحہ بابر
مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ﴿وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ﴾ [سورة الماعون: 7] کے متعلق فرمایا: ”اس سے مراد فرض زکوٰۃ ہے، وہ اپنی نمازوں میں دکھاوا کرتے ہیں اور اپنی زکوٰۃ روکتے ہیں۔“
یہ سند صحیح ہے لیکن مرسل ہے، کیونکہ مجاہد نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا۔
یہ سند صحیح ہے لیکن مرسل ہے، کیونکہ مجاہد نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا۔