کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: تفسیر سورہ الھاکم التکاثر (سورہ التکاثر)
حدَّثنا أبو عمرو عثمان بن عبد الله بن السَّمّاك ببغداد، حدَّثنا عبد الرحمن بن محمد بن منصور الحارثي، حدَّثنا معاذ بن هشام، حدثني أبي، عن قَتَادةَ، عن مُطرِّف ابن عبد الله بن الشِّخير، أنَّ أباه حدَّثه قال: انتهيتُ إلى رسول الله ﷺ وهو يقرأ ﴿أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ﴾، وهو يقول: "يقول ابنُ آدمَ: مالي مالي، وهل لكَ من مالِك إلا ما أكلتَ فأفنَيتَ، أو لَبِستَ فأبلَيتَ، أو تصدَّقتَ فأمضَيتَ؟ " (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، وليس من شرط الشيخين، فليس لعبد الله بن الشِّخِّير راوٍ غيرُ ابنِه مطرِّف، نظرتُ فإذا مسلمٌ قد أخرجه من حديث شعبة عن قَتادةَ مختصرًا (2)!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3969 - أخرجه مسلم مختصرا
حافظ طلحہ بابر
مطرف بن عبداللہ بن شخیر رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ ﷺ ﴿أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ﴾ [سورة التكاثر] کی تلاوت فرما رہے تھے، اور آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”ابن آدم کہتا ہے: میرا مال، میرا مال! حالانکہ تیرے مال میں سے تیرا تو صرف وہی ہے جو تو نے کھا کر ختم کر دیا، یا پہن کر پرانا کر دیا، یا صدقہ کر کے آگے بھیج دیا۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن یہ شیخین کی شرط پر نہیں ہے، کیونکہ عبداللہ بن شخیر کا ان کے بیٹے مطرف کے علاوہ کوئی راوی نہیں ہے۔ تاہم جب میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ امام مسلم نے اسے شعبہ کی حدیث سے، جو قتادہ سے مروی ہے، مختصراً روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 4013
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الرحمن بن محمد الحارثي، وقد توبع.» [ترقيم الرساله 4013] [ترقيم الشركة 3991] [ترقيم العلميه 3969]
حدَّثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدَّثنا محمد بن سِنَان القزَّاز، حدَّثنا محمد بن بكر البُرْساني، حدَّثنا جعفر بن بُرْقان قال: سمعت يزيدَ بن الأصمِّ يحدِّث عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "ما أخشى عليكم الفقرَ، ولكنِّي أخشى عليكم التكاثُرَ، وما أخشى عليكم الخطأ، ولكنِّي أخشى عليكم التعمُّدَ" (1)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. [
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3970 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں تم پر فقر و فاقہ (غریبی) سے نہیں ڈرتا، بلکہ میں تم پر کثرت کی ہوس (مال کی فراوانی اور اس پر فخر) سے ڈرتا ہوں، اور میں تم پر (انجانے میں ہونے والی) خطا سے نہیں ڈرتا، بلکہ جان بوجھ کر گناہ کرنے سے ڈرتا ہوں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 4014
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل محمد بن سنان القزاز، وقد توبع، وباقي رجاله ثقات.» [ترقيم الرساله 4014] [ترقيم الشركة 3992] [ترقيم العلميه 3970]