حدَّثنا أبو علي الحافظ، أخبرنا علي بن سَلْم الحافظ، حدَّثنا محمد بن حماد، حدَّثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن عمرو بن دينار، عن جابر: أنَّ النبي ﷺ كان بحِراءٍ إذ أتاه ملَكٌ بنَمَطٍ من دِيباجٍ فيه مكتوبٌ: ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ إلى ﴿مَا لَمْ يَعْلَمْ﴾ (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ غار حرا میں تشریف فرما تھے کہ آپ کے پاس ایک فرشتہ ریشم کا ایک کپڑا لے کر آیا جس پر لکھا ہوا تھا: ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ سے لے کر ﴿مَا لَمْ يَعْلَمْ﴾ تک۔ [سورة العلق: 1-5]
فسمعتُ أبا على الحافظ يقول: ذِكرُ جابر في إسناده وهمٌ، فقد أخبَرَناه محمد بن إسحاق الثَّقفي، أخبرنا محمد بن عبد الملك بن زَنجوَيهِ، حدَّثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، أخبرني عمرُو بن دينار: أنَّ النبي ﷺ كان بحِراءٍ، فذكره (4). الحديث الأول المتصل رواتُه كلُّهم ثقات، وإنما بنيتُ هذا الكتاب على أنَّ الزيادةَ من الثِّقة مقبولة، فأما السجودُ في ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ﴾، فقد أخرجه مسلمٌ عن أبي الطاهر عن ابن وَهْب عن عمرو بن الحارث عن عُبيد الله بن أبي جعفر عن الأعرج عن أبي هريرة (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3955 - صوابه مرسل
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3955 - صوابه مرسل
حافظ طلحہ بابر
(امام حاکم فرماتے ہیں کہ) میں نے ابوعلی الحافظ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اس کی سند میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا ذکر وہم ہے۔ پھر انہوں نے ہمیں محمد بن اسحاق ثقفی کی سند سے عمرو بن دینار سے مرسل روایت بیان کی کہ: ”نبی کریم ﷺ غار حرا میں تھے...“، پھر اسی طرح حدیث ذکر کی۔ پہلی متصل حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں، اور میں نے اس کتاب کی بنیاد اسی اصول پر رکھی ہے کہ ثقہ راوی کی زیادتی مقبول ہوتی ہے۔ جہاں تک ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ﴾ میں سجدے کا تعلق ہے، تو اسے امام مسلم نے ابو طاہر کی سند سے اعرج اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت کیا ہے۔
وقد حدَّثَناه أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدَّثنا هارون بن سليمان، حدَّثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، عن سفيان، عن عاصم، عن زِرٍّ، عن علي قال: عزائمُ السجود في القرآن: ﴿الم تَنْزِيلٌ﴾ [السجدة: 1 - 2]، و ﴿حم تَنْزِيلٌ﴾ السجدةُ [فصلت: 1 - 2]، والنَّجمُ، و ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ (2). وأنا أتعجَّبُ، مَن حدَّثني لا يسجدُ في المفصَّل. [97 - تفسير سورة (إنا أنزلناه)] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3957 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3957 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”قرآن مجید میں سجدہ کی لازمی (عزائم) آیات یہ ہیں: ﴿الم تَنْزِيلٌ﴾ [سورة السجدة: 1-2]، ﴿حم تَنْزِيلٌ﴾ یعنی سجدہ [سورة فصلت: 1-2]، سورۃ النجم، اور ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ [سورة العلق: 1]۔“
(امام حاکم فرماتے ہیں:) اور مجھے اس شخص پر تعجب ہوتا ہے جو مجھے حدیث بیان کرتا ہے اور مفصل سورتوں میں سجدہ نہیں کرتا۔
(امام حاکم فرماتے ہیں:) اور مجھے اس شخص پر تعجب ہوتا ہے جو مجھے حدیث بیان کرتا ہے اور مفصل سورتوں میں سجدہ نہیں کرتا۔