أخبرنا إسحاق بن محمد الهاشمي بالكوفة، حدَّثنا محمد بن علي بن عفَّان العامرِي، حدَّثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن زيد بن أَرقمَ قال: لما نزلت ﴿تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ﴾ إلى ﴿وَامْرَأَتُهُ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ (4) فِي جِيدِهَا حَبْلٌ مِنْ مَسَدٍ﴾ قال: فقيل لامرأة أبي لهبٍ: إنَّ محمدًا قد هَجَاكِ، فأتتْ رسول الله ﷺ وهو جالسٌ في المَلأ، فقالت: يا محمدُ، عَلَامَ تَهجُوني؟ قال: فقال: "إني واللهِ ما هَجَوتُكِ، ما هجاكِ إِلَّا الله" قال: فقالت: هل رأيتَني أحمِلُ حطبًا، أو رأيتَ في جِيدِي حبلًا من مَسَد؟! ثم انطَلَقَت، فمَكَثَ رسولُ الله ﷺ أيامًا لا يُنزَّلُ عليه، فأتته فقالت: يا محمدُ، ما أرى صاحبَك إلا قد وَدَّعك وقَلَاك، فأنزل الله ﷿: ﴿وَالضُّحَى (1) وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى (2) مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى﴾ (1). هذا إسناد صحيح كما حدَّثَناه هذا الشيخُ، إلا أني وجدتُ له عِلَّةً:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب یہ آیات نازل ہوئیں: ﴿تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ﴾ یہاں تک کہ ﴿وَامْرَأَتُهُ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ (4) فِي جِيدِهَا حَبْلٌ مِنْ مَسَدٍ﴾ [سورۃ المسد: 1، 4-5] تو ابولہب کی بیوی (ام جمیل) سے کہا گیا: بے شک محمد (ﷺ) نے تیری ہجو (مذمت) کی ہے۔ تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی جبکہ آپ مجلس میں تشریف فرما تھے، اور کہنے لگی: اے محمد! آپ میری ہجو کس بات پر کر رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں نے تیری ہجو نہیں کی، تیری ہجو تو اللہ نے کی ہے۔“ وہ کہنے لگی: کیا تم نے مجھے لکڑیاں اٹھاتے ہوئے دیکھا ہے، یا تم نے میری گردن میں کھجور کی چھال کی رسی دیکھی ہے؟! پھر وہ چلی گئی۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ پر چند دن کوئی وحی نازل نہ ہوئی، تو وہ دوبارہ آئی اور کہنے لگی: اے محمد! میرا خیال ہے کہ تمہارے ساتھی (یعنی اللہ) نے تمہیں چھوڑ دیا ہے اور تم سے ناراض ہو گیا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی: ﴿وَالضُّحَى (1) وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى (2) مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى﴾ [سورۃ الضحی: 1-3]
یہ سند اسی طرح صحیح ہے جس طرح اس شیخ نے ہمیں بیان کی ہے، سوائے اس کے کہ میں نے اس میں ایک علت (خامی) پائی ہے۔
یہ سند اسی طرح صحیح ہے جس طرح اس شیخ نے ہمیں بیان کی ہے، سوائے اس کے کہ میں نے اس میں ایک علت (خامی) پائی ہے۔
أخبرناه أبو عبد الله الصَّفّار، حدَّثنا أحمد بن مِهْران الأصبهاني، حدَّثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن يزيد بن زيد قال: لما نَزَلت ﴿تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ﴾، فذكر الحديث مثله حرفًا بحرف (2). قول الله ﷿: ﴿وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ﴾ لم أجِدْ فيه حرفًا مسندًا، ولا قولًا للصحابة، فذكرتُ فيه حرفَين للتابعين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3945 - قال الحاكم إسناده صحيح إلا أني وجدت له علة
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3945 - قال الحاكم إسناده صحيح إلا أني وجدت له علة
حافظ طلحہ بابر
یزید بن زید رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ﴾ [سورۃ المسد: 1]، پھر راوی نے پوری حدیث حرف بہ حرف اسی طرح ذکر کی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ﴾ [سورۃ الضحی: 11] کے بارے میں، میں نے کوئی مرفوع حدیث یا صحابہ کا کوئی قول نہیں پایا، لہٰذا میں نے اس کے متعلق تابعین کے دو اقوال ذکر کیے ہیں۔
أخبرنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدَّثنا الحسن بن أحمد بن اللَّيث، حدَّثنا علي بن هاشم الرازي، حدَّثنا حُميد بن عبد الرحمن الرُّؤَاسي، عن أبي الأحوَص قال: قال أبو إسحاق: يا معشر الشَّباب، اغتنموا، قلَّما تمرُّ بي ليلةٌ إِلَّا وأقرأ فيها ألفَ آية، وإني لأقرأُ البقرة في ركعة، وإني لأصُومُ أشهُرَ الحُرُم، وثلاثةَ أيام من كلِّ شهر، والاثنين والخميسَ، ثم تلا ﴿وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ﴾ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3947 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3947 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
ابو اسحاق رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”اے نوجوانوں کی جماعت! (وقت کو) غنیمت جانو، مجھ پر شاید ہی کوئی رات ایسی گزرتی ہو جس میں، میں ایک ہزار آیات کی تلاوت نہ کرتا ہوں، اور میں ایک ہی رکعت میں سورۃ البقرہ پڑھ لیتا ہوں، اور میں حرمت والے مہینوں کے روزے رکھتا ہوں، اور ہر مہینے تین دن (ایام بیض) کے روزے، اور پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتا ہوں۔“ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ﴾ [سورة الضحى: 11] ”اور اپنے رب کی نعمت کا خوب تذکرہ کرو۔“
أخبرنا أبو سعيد، حدَّثنا الحسن بن أحمد بن الليث، حدَّثنا زياد بن أيوب، حدَّثنا هُشَيم، أخبرنا أبو بَلْج، عن عمرو بن ميمون؛ قال (2): كان يَلقَى الرجل من إخوانه فيقول: لقد رَزَقَ اللهُ البارحة من الصلاة كذا، ورَزَقَ من الخير كذا (3). فرَحِمَ اللهُ عمرَو بنَ عبد الله السَّبِيعي، وعمرَو بنَ ميمون الأوْديَّ، فلقد نبَّها لما يُرغِّب الشبابَ في العبادة. 94 - تفسير سورة (ألم نَشرَح) ﷽ قد اتَّفق الشيخان على حديث قَتَادة عن أنس عن (4) مالك بن صَعصَعة في حديث المِعراج في شَقِّ بطنِ رسول الله ﷺ واستخراج ما أُخرِجَ منه. وقد أتى به ثابتٌ البُناني عن أنسٍ دون ذِكْر مالك بن صَعصَعة خارجَ المِعراج بزيادات ألفاظٍ كما:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3948 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3948 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
عمرو بن میمون رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک آدمی اپنے بھائیوں سے ملتا تو کہتا: ”گزشتہ رات اللہ تعالیٰ نے مجھے اتنی نماز (تہجد) کی توفیق دی، اور اتنی بھلائی اور خیر عطا فرمائی۔“
امام حاکم فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ عمرو بن عبداللہ السبیعی اور عمرو بن میمون الاودی پر رحم فرمائے، انہوں نے ایسی چیز کی طرف توجہ دلائی جو نوجوانوں کو عبادت کی ترغیب دیتی ہے۔ (سورۃ الم نشرح کی تفسیر):
شیخین کا قتادہ کی اس حدیث پر اتفاق ہے جو وہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ اور وہ مالک بن صعصعہ سے معراج کے حوالے سے روایت کرتے ہیں جس میں رسول اللہ ﷺ کے شق صدر (سینہ چاک کرنے) اور جو کچھ نکالا گیا اس کا ذکر ہے۔ اور ثابت البنانی نے اسے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مالک بن صعصعہ کے ذکر کے بغیر اور معراج کے واقعے سے ہٹ کر الفاظ کی زیادتی کے ساتھ اس طرح روایت کیا ہے (جو اگلی حدیث میں ہے):
امام حاکم فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ عمرو بن عبداللہ السبیعی اور عمرو بن میمون الاودی پر رحم فرمائے، انہوں نے ایسی چیز کی طرف توجہ دلائی جو نوجوانوں کو عبادت کی ترغیب دیتی ہے۔ (سورۃ الم نشرح کی تفسیر):
شیخین کا قتادہ کی اس حدیث پر اتفاق ہے جو وہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ اور وہ مالک بن صعصعہ سے معراج کے حوالے سے روایت کرتے ہیں جس میں رسول اللہ ﷺ کے شق صدر (سینہ چاک کرنے) اور جو کچھ نکالا گیا اس کا ذکر ہے۔ اور ثابت البنانی نے اسے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مالک بن صعصعہ کے ذکر کے بغیر اور معراج کے واقعے سے ہٹ کر الفاظ کی زیادتی کے ساتھ اس طرح روایت کیا ہے (جو اگلی حدیث میں ہے):