کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: تفسیر سورہ الم نشرح - نبی کریم ﷺ کے سینہ مبارک کے چاک کیے جانے (واقعۂ شقِ صدر) کا تذکرہ
حدَّثَناه علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدَّثنا أبو مُسلِم ومحمد بن يحيى القزَّاز قالا: حدَّثنا حَجَّاج بن المِنهال، حدَّثنا حماد بن سَلَمة، أخبرنا ثابتٌ البُنَاني، عن أنس بن مالك: أن رسول الله ﷺ أتاه جبريلُ وهو يلعبُ مع الصِّبيان، فأَخَذَه فصَرَعَه فشَقَّ عن قلبِه، فاستَخرَج منه عَلَقةً، فقال: هذا حظُّ الشيطان منك، قال: فغَسَلَه في طَسْتٍ من ذهب بماءِ زمزمَ ثم لأَمَه ثم أعاده في مكانه، قال: وجاء الغِلمانُ يَسعَونَ إلى أُمَّه - يعني ظِئْرَه - فقالوا: إنَّ محمدًا قد قُتِل (1)، فأقبَلَت ظئره تريده، فاستقبلها راجعًا وهو مُنتقِعُ اللون. قال أنس: وقد كنَّا نَرى أثرَ المِخْيَطِ في صدرِه (2). صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه! وقد صحَّت الروايةُ عن عمر بن الخطَّاب وعلي بن أبي طالب: لن يَغلِبَ عُسرٌ يُسرَينِ (3). وقد رُوِيَ بإسنادٍ مُرسَلٍ عن النبي ﷺ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3949 - صحيح على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے جبکہ آپ ﷺ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے، انہوں نے آپ ﷺ کو پکڑا اور لٹا دیا، پھر آپ ﷺ کا سینہ چاک کیا اور اس میں سے آپ کا دل نکالا، پھر اس سے خون کا ایک لوتھڑا نکالا اور فرمایا: ”یہ تم میں سے شیطان کا حصہ تھا۔“ پھر انہوں نے اس دل کو سونے کے ایک طشت میں زمزم کے پانی سے دھویا، پھر اسے جوڑ کر اسی جگہ واپس رکھ دیا۔ اور لڑکے دوڑتے ہوئے آپ ﷺ کی ماں (یعنی آپ کی رضاعی ماں سیدہ حلیمہ) کے پاس گئے اور کہا: ”محمد (ﷺ) کو قتل کر دیا گیا ہے۔“ تو وہ دوڑتی ہوئی آپ ﷺ کی طرف آئیں، اور آپ ﷺ انہیں واپس آتے ہوئے ملے جبکہ آپ ﷺ کے چہرے کا رنگ اترا ہوا تھا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اور ہم آپ ﷺ کے سینہ مبارک پر سلائی کے نشانات دیکھا کرتے تھے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور سیدنا عمر بن خطاب اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما سے یہ روایت بھی صحیح ثابت ہے کہ: ”ایک تنگی دو آسانیوں پر ہرگز غالب نہیں آ سکتی۔“ اور یہ نبی کریم ﷺ سے مرسل سند کے ساتھ بھی یوں مروی ہے:
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3993
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو مسلم: هو الحافظ أبو مسلم الكجِّي إبراهيم بن عبد الله بن مسلم البصري.» [ترقيم الرساله 3993] [ترقيم الشركة 3971] [ترقيم العلميه 3949]
أخبرَناه محمد بن علي الصَّنعاني، حدَّثنا إسحاق بن إبراهيم الصَّنعاني، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمَر، عن أيوب، عن الحسن في قول الله ﷿: ﴿إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا﴾ قال: خرج النبيُّ ﷺ يومًا مسرورًا فَرِحًا وهو يضحكُ، وهو يقول: "لن يَغلِبَ عسرٌ يُسرَينِ ﴿إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (5) إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا﴾ " (1). 95 - تفسير سورة (والتِّين) ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3950 - مرسل
حافظ طلحہ بابر
حسن بصری رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا﴾ [سورة الشرح: 6] کے متعلق مرسل روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ ایک دن خوشی اور مسرت کے عالم میں ہنستے ہوئے نکلے اور فرما رہے تھے: ”ایک تنگی دو آسانیوں پر ہرگز غالب نہیں آ سکتی، ﴿إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (5) إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا﴾ ”بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔““ [سورة الشرح: 5-6]
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3994
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لإرساله ورجاله ثقات
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لإرساله ورجاله ثقات، الحسن» [ترقيم الرساله 3994] [ترقيم الشركة 3972] [ترقيم العلميه 3950]