کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: تفسیر سورہ والضحیٰ - رسول اللہ ﷺ کو ان فتوحات اور نعمتوں کا دکھایا جانا جو آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کی امت پر کشادہ کی جائیں گی۔
حدثني أبو عمرو محمد بن أحمد (1) بن إسحاق العَدْل، حدَّثنا محمد بن الحسن العَسقَلاني، حدَّثنا عصام بن رَوَّاد بن الجرَّاح، حدثني أبي، حدَّثنا الأوزاعي، عن إسماعيل بن عُبيد الله، قال: حدثني علي بن عبد الله بن عبّاس، عن أبيه قال: أُرِيَ رسولُ الله ﷺ ما يُفتَح على أمَّتِه من بعده فسُرَّ بذلك، فأنزل الله ﷿: ﴿وَالضُّحَى (1) وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى﴾ إلى قوله: ﴿وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى﴾، قال: فأعطاه ألفَ قصرٍ في الجنة من لُؤلُؤٍ ترابُه المسكُ، في كل قصرٍ منها ما يَنبَغي له (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3943 - تفرد به عصام بن رواد عن أبيه وقد ضعف
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3943 - تفرد به عصام بن رواد عن أبيه وقد ضعف
حافظ طلحہ بابر
علی بن عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کو وہ فتوحات دکھائی گئیں جو آپ کے بعد آپ کی امت کو حاصل ہوں گی، تو آپ ﷺ اس سے خوش ہوئے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿وَالضُّحَى (1) وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى﴾ یہاں تک کہ یہ فرمایا: ﴿وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى﴾ [سورۃ الضحی: 1-2، 5] انہوں (ابن عباس رضی اللہ عنہما) نے کہا: پس اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو جنت میں موتیوں کے ایک ہزار محلات عطا فرمائے، جن کی مٹی کستوری ہے، اور ہر محل میں وہ سب کچھ ہے جو اس کے شایانِ شان ہے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثنا أبو الفضل محمد بن إبراهيم المزكِّي إملاءً، حدَّثنا أحمد بن سَلَمة، حدَّثنا عبد الله بن الجرَّاح، حدَّثنا حماد بن زيد، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس، أنَّ النبي ﷺ قال: "سألت الله مسألةً وددتُ أني لم أكن سألتُه، ذَكَرتُ رسلَ ربي فقلت: سخَّرت لسليمانَ الريحَ، وكلَّمتَ موسى، فقال ﵎: ألم أَجِدُك يتيمًا فآويتُك، وضالًا فهَدَيتُك، وعائلًا فأَغنيتُك؟ " قال: "فقلت: نَعَم، فَوَدِدتُ أن لم أسأَلْه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3944 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3944 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اللہ سے ایک ایسا سوال کیا کہ کاش میں نے وہ سوال نہ کیا ہوتا۔ میں نے اپنے رب کے رسولوں کا ذکر کیا اور عرض کیا: تو نے سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا، اور تو نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد! کیا میں نے تجھے یتیم نہیں پایا پھر تجھے ٹھکانہ دیا، اور تجھے بھٹکا ہوا پایا تو تجھے راستہ دکھایا، اور تجھے تنگدست پایا تو غنی کر دیا؟“ آپ ﷺ فرماتے ہیں: ”میں نے کہا: ہاں (اے میرے رب!)۔ پس میں نے تمنا کی کہ کاش میں نے اس سے یہ سوال نہ کیا ہوتا۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔