کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: تفسیر سورۂ عبس وتولى — یہ سورت ابن ام مکتوم نابینا کے بارے میں نازل ہوئی
حدَّثنا علي بن عيسى الحِيرِي، حدَّثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدَّثنا سعيدٌ بن يحيى بن سعيد الأمَوي، حدَّثنا أبي، عن هشام بن عُرْوة، عن عُرْوة، عن عائشة قالت: أُنزِلَت ﴿عَبَسَ وَتَوَلَّى﴾ في ابن أمِّ مكتُوم الأعمى، قالت: أتى إلى رسول الله ﷺ فجَعَل يقول: أرشِدْني، قالت: وعندَ رسول الله ﷺ من عُظماء المشركين، قالت: فجَعَل رسولُ الله ﷺ يُعرضُ عنه ويُقبلُ على الآخر ويقول: "أترى بما أقولُ بأسًا؟ " فيقول: لا، ففي هذا نَزَلَت ﴿عَبَسَ وَتَوَلَّى﴾ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، فقد أرسَلَه جماعةٌ عن هشام بن عُرْوة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3896 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، فقد أرسَلَه جماعةٌ عن هشام بن عُرْوة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3896 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سورہ ﴿عَبَسَ وَتَوَلَّى﴾ نابینا صحابی ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے متعلق نازل ہوئی، وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے: (اے اللہ کے رسول!) میری رہنمائی فرمائیے، اس وقت رسول اللہ ﷺ کے پاس مشرکین کے بڑے سردار بیٹھے ہوئے تھے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ ان (نابینا صحابی) سے اعراض فرما کر ان سرداروں کی طرف متوجہ ہو گئے اور ان سے دریافت کرنے لگے: ”کیا جو میں کہہ رہا ہوں اس میں تمہیں کوئی حرج نظر آتا ہے؟“ وہ کہتے: نہیں، پس اسی موقع پر ﴿عَبَسَ وَتَوَلَّى﴾ [سورة عبس: 1] ”وہ ماتھے پر بل لائے اور منہ موڑ لیا“ نازل ہوئی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، کیونکہ راویوں کی ایک جماعت نے اسے ہشام بن عروہ سے مرسل روایت کیا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، کیونکہ راویوں کی ایک جماعت نے اسے ہشام بن عروہ سے مرسل روایت کیا ہے۔
حدَّثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدَّثنا إبراهيم بن عبد الله التميمي، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا حُميد، عن أنس. وحدثنا أبو عبد الله، حدثني أبي، حدَّثنا إسحاق، أخبرنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد، حدَّثنا أبي، عن صالح، عن ابن شهاب (2)، أنَّ أنس بن مالك أخبره: أنه سمعَ عمر بن الخطَّاب يقرأ: ﴿فَأَنْبَتْنَا فِيهَا حَبًّا (27) وَعِنَبًا وَقَضْبًا (28) وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا (29) وَحَدَائِقَ غُلْبًا (30) وَفَاكِهَةً وَأَبًّا﴾، فكلُّ هذا قد عَرَفْنا، فما الأبُّ؟ ثم نفض عصًا كانت في يده فقال: هذا لَعَمْرُ اللهِ التكلُّفُ، اتَّبعوا ما تبيَّن لكم من هذا الكتاب (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3897 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3897 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ آیات پڑھتے سنا: ﴿فَأَنْبَتْنَا فِيهَا حَبًّا (27) وَعَنِبًا وَقَضْبًا (28) وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا (29) وَحَدَائِقَ غُلْبًا (30) وَفَاكِهَةً وَأَبًّا﴾ [سورة عبس: 27-31] (پھر عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے) فرمایا: یہ سب تو ہم نے جان لیا، مگر «اَبّ» سے کیا مراد ہے؟ پھر انہوں نے اپنے ہاتھ میں موجود لاٹھی کو حرکت دی اور فرمایا: اللہ کی قسم! یہ تو (معانی کی گہرائی میں جانے کا) تکلف ہے، تم اس کتاب میں سے اس بات کی پیروی کرو جو تم پر واضح ہو چکی ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سَلمان الفقيه ببغداد، حدَّثنا إسماعيل بن إسحاق، حدَّثنا إسماعيل بن أبي أُوَيس، حدثني أبي، عن محمد بن أبي عيّاش، عن عطاء بن يَسَار، عن سَوْدة زوج النبي ﷺ قالت: قال رسول الله ﷺ: "يُبعَثُ الناسُ حُفاةً عُراةً غُرْلًا، يُلجِمُهم العَرقُ ويَبلُغ شحمةَ الآذانِ" قالت: قلت: يا رسول الله، واسَوْأَتَاهُ، يَنظُرُ بعضُنا إلى بعض؟! قال: "شُغِلَ الناسُ عن ذلك"، وتلا رسول الله ﷺ: ﴿يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ (34) وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ (35) وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ (36) لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ﴾ (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما اتَّفقا على حديث حاتم بن أبي صَغِيرة عن ابن أبي مُلَيكة عن القاسم عن عائشة مختصرًا (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3898 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما اتَّفقا على حديث حاتم بن أبي صَغِيرة عن ابن أبي مُلَيكة عن القاسم عن عائشة مختصرًا (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3898 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
ام المومنین سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگ (قیامت کے دن) ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بغیر ختنہ کیے اٹھائے جائیں گے، پسینہ ان کے منہ تک لگام کی طرح پہنچ جائے گا اور کانوں کی لو تک پہنچ جائے گا“، سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہائے افسوس، کیا ہم ایک دوسرے کی طرف دیکھیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لوگ اس وقت اس (دیکھنے) سے بے نیاز اور (اپنی فکر میں) مشغول ہوں گے“، پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیات تلاوت فرمائیں: ﴿يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ (34) وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ (35) وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ (36) لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ﴾ [سورة عبس: 34-37] ”جس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا، اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے، اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے، اس دن ان میں سے ہر شخص کی ایسی حالت ہوگی جو اسے (دوسروں سے) بے پروا کر دے گی۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس لفظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، بلکہ شیخین نے حاتم بن ابی صغیرہ کی روایت سے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسے مختصراً روایت کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس لفظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، بلکہ شیخین نے حاتم بن ابی صغیرہ کی روایت سے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسے مختصراً روایت کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدَّثنا الفضل بن عبد الجبار، حدَّثنا علي بن الحسن بن شَقيق، حدَّثنا الحسين بن واقد، عن الرَّبيع بن أنس، عن أبي العاليَة، عن أبي بن كعب في قوله ﷿: ﴿وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً﴾ [الحاقة: 14]، قال: يصيرانِ غَبَرَةً على وجوه الكفّار لا على وجوه المؤمنين، وذلك قولُه ﷿: ﴿وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ (40) تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ﴾ [عبس: 40 - 41] (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. 81 - تفسير سورة (إذا الشمسُ كُوِّرت) ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3899 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. 81 - تفسير سورة (إذا الشمسُ كُوِّرت) ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3899 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً﴾ [سورة الحاقة: 14] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: وہ دونوں (زمین اور پہاڑ) ریزہ ریزہ ہو کر کافروں کے چہروں پر غبار بن کر پڑیں گے نہ کہ مومنوں کے چہروں پر، اور یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْہا غَبَرَةٌ (40) تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ﴾ [سورة عبس: 40-41] ”اور بہت سے چہروں پر اس دن غبار ہوگا، ان پر سیاہی چھائی ہوگی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔