أخبرنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدَّثنا إبراهيم بن الحسين، حدَّثنا آدم بن أبي إياس، حدَّثنا وَرْقاءُ، عن ابن أبي نَجِيحٍ، عن مجاهدٍ، عن ابن عبَّاس: ﴿وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا (1) وَالنَّاشِطَاتِ نَشْطًا﴾، قال: الموتُ (2). صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3893 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3893 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا (1) وَالنَّاشِطَاتِ نَشْطًا﴾ [سورة النازعات: 1-2] کے متعلق مروی ہے، انہوں نے فرمایا: (ان سے مراد) موت (کے فرشتے) ہیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو النَّضْر الفقيه، حدَّثنا معاذ بن نَجْدة القرشي، أخبرنا قَبيصة بن عُقْبة، حدَّثنا سفيان، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن الطُّفيل بن أبيِّ بن كعب، عن أبيِّ بن كعب قال: كان رسول الله ﷺ إذا ذهب ربعُ الليل قال: "يا أيُّها الناسُ، اذكُروا الله، يا أيُّها الناسُ، اذكُروا الله، جاءت الرَّاجفةُ تَتْبعُها الرادفةُ، جاء الموتُ بما فيه، جاء الموتُ بما فيه". فقال أبي بن كعب: يا رسول الله، إني أُكثِرُ الصلاةَ عليك، فكم أجعلُ [لك] من صلاتي؟ قال: "ما شئت" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3894 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3894 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رات کا چوتھائی حصہ گزر جاتا تو رسول اللہ ﷺ (بیدار ہو کر) فرماتے: ”اے لوگو! اللہ کو یاد کرو، اے لوگو! اللہ کو یاد کرو، (قیامت کا پہلا صور) «الرَّاجفةُ» آ گیا ہے جس کے پیچھے دوسرا صور «الرادفةُ» آئے گا، موت اپنی تمام تر ہولناکیوں کے ساتھ آ پہنچی ہے، موت اپنی تمام تر ہولناکیوں کے ساتھ آ پہنچی ہے۔“ پس سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں آپ پر کثرت سے درود بھیجتا ہوں، تو میں اپنی دعا کا کتنا حصہ آپ کے لیے (درود کے لیے) مخصوص کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جتنا تم چاہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثنا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدَّثنا بِشْر بن موسى الأسَدي، حدَّثنا الحُميدي، حدَّثنا سفيان، عن الزُّهْري، عن عُرْوة، عن عائشة قالت: كان النبي ﷺ يُسأَلُ عن الساعةِ حتى أُنزِلَ عليه: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا (42) فِيمَ أَنْتَ مِنْ ذِكْرَاهَا (43) إِلَى رَبِّكَ مُنْتَهَاهَا﴾ [النازعات: 42 - 44]، قال: فانتَهى (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، فإنَّ ابن عُيَينة كان يُرسِله بأَخَرةٍ. 80 - تفسير سورة (عبس وتولَّى) ﷽
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، فإنَّ ابن عُيَينة كان يُرسِله بأَخَرةٍ. 80 - تفسير سورة (عبس وتولَّى) ﷽
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے قیامت کے متعلق پوچھا جاتا تھا یہاں تک کہ آپ ﷺ پر یہ آیات نازل ہوئیں: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا (42) فِيمَ أَنْتَ مِنْ ذِكْرَاهَا (43) إِلَى رَبِّكَ مُنْتَهَاهَا﴾ [سورة النازعات: 42-44] ”لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا قیام کب ہوگا؟ آپ کو اس کے ذکر سے کیا واسطہ؟ اس کا علم تو صرف آپ کے رب ہی تک (محدود) ہے“، پس آپ ﷺ نے (اس بارے میں گفتگو کرنے سے) سکوت فرما لیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، کیونکہ ابن عیینہ آخری عمر میں اسے مرسل روایت کرتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، کیونکہ ابن عیینہ آخری عمر میں اسے مرسل روایت کرتے تھے۔